کلمہ اﷲ کی حقیقت اول سوال اس مضمون پر تھا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ اول کلام تھا اور کلام سے خدا ہوا اور خدا کی روح سے مسیح پیدا ہوا اور قرآن نے بھی اسے کلمہ فرمایا ہے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ :- کلمہ تو میرے الہام میں میرا نام بھی رکھا گیا ہے تم اس کے معنے بتلائو پھر ہم ا سکے بتلائیں گے اگر کہو کہ الہام سچا نہیں تو آئو اول اس کا فیصلہ کر لیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے یو من باﷲ وکلما تہ (الاعراف : ۱۵۹) ما نفدت کلمات اﷲ (لقمان : ۲۸) تو معلوم ہوا کہ قضاء و قدر کا نام بھی کلمہ ہے روح کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔روح الشیطان اور روح اﷲ پہلا لفظ ولد الزنا اور دوسرا اصیل پر بولا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے مصدق ہونے کی حقیقت دوسرا سوال اس مضمون کا تھا کہ جو قرآن جو انجیلوں کا مصدق ہے تو کیا اناجیل صحیح ہیں؟ فرمایا کہ :- مصدق کے معنے قرآنی طور پر یہ ہیں کہ جو کچھ صحیح تھا اس کی تونقل کر دی اور جو نہیں لیا وہ غلط تھا پھر انجیلوں کا آپس میں اختلاف ہے اگر قرآن نے تصدیق کی ہے تو بتلائو کونسی انجیل کی کی ہے قرآن نے یوحنا متی وغیرہ کی انجیل کی کہیں تصدیق نہیں کی۔ہاں پطرس کی دعا کی تصدیق کی ہے اسی طرح کونسی توریت کہیں جس کی تصدیق قرآن نے کی۔پہلے توریت تو ایک بتائو قرآن تو تمہاری توریت کو محرف بتلاتا ہے اور تم میں خود اختلاف یہ کہ روتیت مختلف ہیں۔ قرآن کریم کا خطاب تیسرا سوال۔قرآن نے خود رسول اﷲ کو کہا ان کنت فی شک (یونس : ۹۵) فرمایا :- اول یہ بتلائو کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا گیا کہ ماں باپ کی عزت کرو ان کے والدین کہاں تھے ہان یہ شک کا لفظ اول مسیح پر وارد ہو سکتا ہے کیونکہ اگر وہ قربان اور فدیہ ہونے کے واسطے ہی آیا تھا اور یہ قطعی فیصلہ تھا تو اس نے کیوں کہا کہ اے خدا یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے معلوم ہوا کہ اسے ضرور شک تھا قرآن میں جہاں شک کا لفظ ہے ہر ایک مخاطب کی طرف ہے نہ کہ