ماموریت کا مقصد
ایک علی حائری نامی شیعہ کے رسالہ کا ذکر ہوا جس میں مصنف نے ہمارے مقابلہ میں اہل سنت کو خطاب کیا ہے کہ تم اور ہم ایک ہیں حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ:-
سنّیوں کو تو ایک کر لیا اب ان کو چاہئے کہ خارجیوں کو بیھ ایک کریں ان کا بھی حق ہے پھر کبھی مل کر علیؓ اور عثمانؓ کو گالیاں دے لیا کریں اور کبھی وہ ابو بکرؓ و عمرؓ کو دے لیا کریں ہمیں خدا نے اس لئے مامور کیا ہے کہ جو حد سے زیادہ شانیں خدا کی مخلوق کی بنائی ہوئی ہیں ان کو دور کریں اس کے حصہ دار سنی بھی ہیں ان میں بھی شرک بہت پھیلا ہوا ہے۔
تازہ الہامات
پھر حضرت نے آج کے الہامات سنائے کہ:-
آج یہ الہام ہوئے
’’یریدون ان یطفئو انورک۔یریدون ان یتخطفواعرضک۔انی معک و مع اھلک‘‘
فرمایا کہ:-
خدا تعالیٰ ہمیں اکیلا کمزور ضعیف پا کر ہماری حمایت پر آسمان سے تار بھیج دیتا ہے۔؎ٰ
۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز دو شنبہ
(بوقت سیر)
حسب معمول حضرت اقدسؑ سیر کے لئے نکلے اور طاعوں کے ذکر پر فرمایا کہ :-
اس موسم میں آج کل عموماً گلٹیاں بغل وغیرہ میں نکلا کرتی ہیں مگر جب تک ان کے ساتھ کوئی زہریلا مادہ نہ ہوتب تک طاعون نہیں کہلاتی۔
عیسائیوں کے چار سوالوں کا جواب
ایک شخص کے چار ساول دہلی سے آئے تھے جو کہ عیسائیوں کی طرف سے اس پر ہوئے تھے وہ شیخ یعقوب علی صاحب نے پڑھ کر سنائے۔