ہیں ایک طرھ پھر موڑھے پر بازار میں جا بیٹھتی ہیں۔ پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑھ ہے اس کی تخم ریزی مسیح نے کی۔شراب کے جائز رکھنے سے کروڑہا لوگوں کی گردن پر چھری پھر گئے جب انسان نشہ کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر چھوڑنا مشکل ہے یہ نشہ بھی کیا شئے ہے۔کہ ایک طرف زندگی کو کھا جاتا ہے دوسری طرف زندگی کا شہتیر بھی ہے نشہ والوں کو نشہ نہ ملے تو موت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ایک نشہ کا سائل ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تین دن سے نسہ نہیں ملا اس کی حالت بہت ردی تھی اورنشہ کے لئے مجھ سے پیسہ طلب کرتی تھی میں نے تعجب کیا کہ یہ نہ روٹی کا سوال کرتی ہے نہ کپڑے کا اور نشہ کے لئے بے قرار ہے۔اسے عادت ہوگی اور اب اس کی زندگی کا گویا جزو ہوگیا ہے اس لئے اس کو اپنے بیان میں سچا جان کر میں نے ایک پیسہ اسے دے دیا۔ اس موقعہ پر حضرت اقدس نے حکیم نورالدین صاحب سے سوال کیا کہ کتنے عرصہ کے بعد انسان کسی نشہ کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اسے چھوڑ نہیں سکتا رو مجبور ہو جاتا ہے حکیم صاحب نے کہا کہ کسی جگہ شاید نظر سے تو نہیں گزرا مگر چالیس دن میں ایسا ہو سکتاہے۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ :- ہر ایک شئے کے لئے چالیس دن ہی ہیں بات یہ ہے کہ شراب اور اس کے بہن بھرا (بھنگ افیون وغیرہ) ایسی خراب شئے ہیں کہ ان سے مٹی پلید ہوتی ہے مگر پھر وہ مذہب کیسے اچھا ہو سکتا ہے سج میں ایسی تعلیم ہو ہاں ایک صورت ہے یہ نشہ چھوٹ سکے کہ جیلخانہ میں بند ہوں داروغہ بھی ایساہو کہ کسی سے سازش نہ کرے پھر شاید یہ عادت چھوٹ جاوے۔ فرمایا کہ:- یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تے تو معلوم ہوا کہا س وقت بھی منع تھا مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔ شائد کوئی یہ اعتراض کرے کہ اوائل اسلام میں تو حرمت تھی نہیں۔ا۱۳ برس کے بعد حرمت ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اسلام تو آہستہ آہستہ صفائی کرتا جاتا تھا اور قوم بن رہی تھی جب قوم بن گئے تو حکم آگیا ابتداء میں تو صحابہ ؓ کو یہ مصیبت تھی کہ پانی بھی بھولا ہوا ہوگا شراب کا کیا ذکر ہے۔