کئے۔حضرت اقدس نے فرمایا :- کیا وجہ ہے کہ اس نے مسیح کا ذکر نہ کیا کہ ایک انجیر کے درخت کی طرف گیا اور جانتا تھا کہ اس میں پھل نہیں ہے پھر وہ جانتا تھا کہ صلیب ملنی ہے اور دعائیں کرتا رہا کہ مجھے نجات ملے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ثبوت میں فقد لبثت فیکم عمرا (یونس : ۱۷) کی دلیل پیش کرتے ہیں اس کے مقابلہ کا ایک فقرہ بھی انجیل میں نہیں ہے اور پیغمبر خدا کی تمام عمر کا یہ حوالہ ہے فقد لبثت فیکم عمرا (یونس :۱۷) استغفار کے اصل معنے تو یہ ہیں کہ یہ خواہش کرنا کہ مجھ سے کوئی گناہ نہ ہو یعنی میں معصوم رہوں اور دوسرے معنے جو اس سے نیچے درجے پر ہیں کہ میرے گناہ کے بدنتائج جو مجھے ملنے ہیں میں ان سے محفوظ رہوں۔؎ٰ مسیح تو خود کنجریوں سے تیل ملواتا رہا۔اگر استغفار کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔ (بعد نماز مغرب) پھر اس کے بعد اذان ہو کر نماز مغرب ہوئی ارو حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے اور فرمایا کہ:- الزامی جواب مفتی محمد صادق صاحب جو کتاب سنایا کرتے ہیں جس میں مشیعہ عورت اور مشیع یہودی عاشق سلومی کا ذکر ہ یکہ وہ عورت سلومی مشیع کو چھوڑ کر یسوع کے شاگردوں میں جاملی۔اس لئے اس مشیع نے یہ سارا منصوبہ صلیب کا بنایا گویا ایک عورت کے واقعہ نے ان کی صلیب تک نویت پہنچائی۔ جس طرح بدظنیاں ان لوگوں نے نکالی ہیں ویسے ہی ہمارا بھی حق ہے ان کے نزدیک زیادہ شادیاں کرنا گناہ ہے مگر ایک بازاری عورت عطر ملتی ہے تیل بالوںکو لگاتی ہے بالوں میں کنگھی کرتی ہے اور یہ مہنت کی طرح بیٹھے ہوئے مزے سے سب کرواتے جاتے ہیں یہ بھی پوچھو کہ گناہ ہے یا نہیں۔ان کو لازم تھا ہ اعتراض نہ کرتے جو واقعات ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں وہی پیش کرنے پڑتے ہیں اور کیا جواب دیویں۔یہ کوئی چھوٹا اعتاض نہیں ہے کہ ان کو کنجریوں سے کیا تعلق تھا اور اگر کہو کہ اس کنجری نے توبہ کی تھی تو کنجری کی توبہ کا اعتبار کیا۔ایک طرف توبہ کرتی