(بوقت نماز ظہر) مقدمہ بازی اچھی نہیں ہوتی حکیم فضل دین صاحب کے مقدمہ پر حضرت اقدس ؑ غور فرماتے رہے اور بہت سی باتیں سننے کے بعد حضور نے فرمایا کہ :- مقدمہ وہ بہت منحوس ہوتا ہے جس کا انجام بخیر نظر نہ آوے اور صاف وہ مقدمہ ہوتا ہے جس کے آثار فتح و نصرت کے جلد نظر آجاویں مقدمن بازی اچھی نہیں ہوتی۔بار بار حکام کے پاس جانا‘ ان کے متھے لگنا۔میری رائے تو یہ ہے کہ مراد بصد بگزار صلح کر لو۔ قرآن کے حکم کی تعمیل میں کوئی تکلیف نہیں ایک صاحب نے کہا کہ حضور کو بھی شہدت کے لئے جانے کی تکلیف ہوگی اس نے اسی لئے آپ کی شہادت لکھائی ہے کہ یہ لوگ تکالیف کو دیکھ کر صلح کر لیں حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ:- ہمیں کوئی تکلیف نہیں قرآن کا حکم ہے کہ جب گواہی کے لئے بلایا جاوے تو جائو۔میں کوئی بے دست و پاتو ہوں نہیں۔ہمیشہ پیدل بٹالہ آیا جایا کرتا تھا۔یہ تو کوئی بات نہیں چلنے پھرنے کی عادت ہے مگر یہ ایک منحوس بے حیثیت سا مقدمہ نظر آتا ہے مو من کو اپنی عزت کا پاس بھی کرنا چاہئے گندے آدمیوں سے یہ جگہ پر تھی معلوم نہیں کہ خدا کو کیوں یہ جگہ پسند آئی۔ (نماز عصر سے پیشتر) نماز عصر سے پیشتر مولوی عبدالکریم صاحب نے اخویم عبدالعزیز صاحب کا خط سنایا جو سہار نپور سے آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ یہاں کے لوگوں میں ایک عجیب ولولہ اور شوق قادیان پہنچنے کا پیدا ہو رہا ہے۔ (نماز مغرب سے پہلے) عصمت انبیاء کسی پادری نے عصمت انبیاء کے متعلق چند ایک اعتراضات مولوی محمد علی صاحب کے پاس روانہ کئے ہوئے تھے اور نوح کا گنہگار ہونا بھی لکھا تھا کہ اس نے خلاف منشاء ایزدی اپنے بیٹے کے لئے دعا کی یہ اعتراض مولوی صاحب نے نماز مغرب سے پہلے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش