تھیں مگر صحابہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لوگ دین کے دشمن ہیں تو اپنے ہاتھوں سے ان کو ہلاک کیا گر ان میں (نذیر حسین میں) تقویٰ ہوتا تو ایسے سخت دلی کے لکھے ہوئے خط نہ پہنچتے یہ کہہ دیتے کہ تقویٰ اجازت نہیں دیتا یہ تمام امور تقویٰ کے خلاف ہیں کہ قرآن شریف بین دلائل سے وفات مسیح ثابت کرتا ہے جیسے
فلما توفیتنی (البائدہ : ۱۱۸)
اور
قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران : ۱۴۵)
پھر خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج میں ان کو مردوں میں دیکھنا اور پھر تمام فرقے اسلام کے اور صوفی موت کو مانتے ہیں اور یہ لوگ اس بات کے قائل نہیں ہین سب سے پہلا اتفاق اسی امر پر ہوا کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں صرف قوم اور برادری کو مد نظر رکھ کر (نذیر حسین) نے انکار کیا۔
سنا تھا کہ نذیر حسین کہتا تھا کہ مجھے ایک ایسی بات یاد ہے کہ اگر بتائوں تو ہزاروں آدمی مرزا صاحب کے مرید ہو جاویں وہ تو ہزاروں داخل کراتا ہی رہ گیا یہاں لاکھوں داخل ہوگئے۔
حجرہ نشین لوگوں کو نہ تو آسمانی منطق نصیب ہوتی ہے اور نہ زمینی۔
مولوی اسمٰعیل شہید صاحب آئے تو سنگھڑ بھی گئے اور شیخ سلیمان سے ملے شاید جہاد کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ فقیر نے اپنے ہاتھ سے چڑیا بھی نہیں ماری تلوار کیسے اٹھاوے گا۔انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۳۶۳ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے تھے۔
پھر فرمایا کہ :-
اب تومیں یقین کرتا ہوں کہ وہ (نذیر حسین )ہماری جماعت میں داخل ہوا۔کئا مرتبہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی زندگی میں تو قائل نہ ہوا مگر جب فوت ہو گیا تو ہماری جماعت میں داخل ہوا۔
محمد حسین بٹالوی کا عقیدہ
محمد حسین بٹالوی کے ذکر پر فرمایا کہ :-
اس عمارت کے دو کونے ہیں ایک مہدی اور ایک مسیح۔مہدی کی نسبت وہ کہہ چکا تھا کہ کوئی حدیث بھی جرح سے خالی نہیں ہے جب ایک کونہ گر گیا تو دوسرا کس کام کا۔اسی لئے ہمارا انکار کر دیا یہ مسئلہ ایک مرکب شے ہے جیسے ایک پیالہ اگر اس کا ایک ٹکڑا ٹوٹ جائے تو باقی کس کام کا۔اور ایک پہلو سے محمد حسین ہمارے مفید مطلب ہوا کہ مہدی کی تردید کر چکا۔