مکان کے آگے آکر تھوڑی دیر نواب صاحب کا انتظار فرماتے رہے جب نواب صاحب تشریف لائے تو روانہ ہوئے اور فرمایا کہ :- نئی تحقیقات نے دابۃالارض کی بہت تائید کی ہے اور اس کے معنے کھول دیئے ہیں کہ وہ یک کیڑا ہی ہے اور پھر یہ بیھ کہ بہت باریک ہے جیسے کہ سلیمان ؑ کے قصہ میں ہے تاکل منسا تہ (سبا : ۱۵) باریک ہی تھا تو اندر اندر کھاتا رہا اور پتہ نہ لگا اور تکلمھم (النمل : ۸۳) سے مراد بھی یہی ہے کہ طاعون ہو کیونکہ ایک اور مقام پر قرئن شریف میں ہے کہ ہم ہر ایک قریہ کو قیامت سے پہلے ہلاک کریں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔ مغضوب علیہ اور ضال کا فرق مغضوب علیھم کا آخر جیسے موت ہے اسی طرح والضالین کا بھی آخر موت ہے مگرآہستہ آہستہ۔کیونکہ ضلالت کے معنے ہیں راستے سے بہتک جانا۔بھٹکتے پھرنا۔آخر انسان کو جب کوئی راہ نہ ملا تو مر ہی جائے گا ریگستانوں وغیرہ میں لوگ راستہ بھول کر مر ہی جاتے ہیں۔لیکھرام مغضوب علیہ تھا اور آتھم ضال کہ ایک جلدی مر گیا اور ایک آہستہ آہستہ سسکتا ہوا مرا اور آریہ بھی یہود میں داخل ہیں ان کا ھون وغیرہ تمام رسوم یہود سے ملتی ہیں بعض نے لکھا ہے کہ برہمن‘مصرجی اسی لئے کہلاتا ہیں کہ یہ لوگ مصر سے آئے تھے۔ ایک نفسیاتی نکتہ ایک شخص کی حالت پر حضور نے فرمایا کہ :- جوش والا آدمی درست ہونے کے لائق بہت ہوتا ہے مگر منافق نہیں ہوتا۔ سر سید احمد خان کی رائے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سر سید احمد صاحب سے ایک دفعہ جب میری کتابوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ ان میں ذرہ خیر نہیں ہے۔ مولوی نذیر حسین دہلوی کا ذکر مولوی نذیر حسین دہلوی متوفی کے ذکر پر بعض احباب نے یہ کہا کہ قوم اور برادری کی محبت ہی نے دراصل اسے اخفاء حق کے لئے مجبور کیا ہوا تھا۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا :- محبت دین کی ہی محبت ہوتی ہے صحابہ کرام ؓ کی بھی برادری‘قوم اور رشتہ داریاں