کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا۔
کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی۔جیسے آپ پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا انی رسول اللہ الیکم جمیعا( الاعراف:۱۵۹)اور ما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین(الانبیاء:۱۰۸)جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے اس الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیںہوگا۔جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے اور یہی وجہ ہے کہ خواب کی تعبیر میں معبرین نے یہ اصول رکھا ہے کہ وہ ہر شخص کی حیثیت اور حالت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔اگر کوئی آدمی غریب ہے تو اسکی خواب اس کی ہمت اور مقاصد کے اندر ہو گی امیر کی اپنے رنگ کی اور بادشاہ کی اپنے رتبہ کی ۔ کوی غریب مثلا اگر یہ دیکھے کہ اس کے سر میں خارش ہوتی ہے تو اس سے یہ مراد ہونے سے رہی کہ کہ اس کے سر پر تاج شاہی رکھا جاوے گا بلکہ اس کے لئے تو یہی مراد ہوگی کہ وہ کسی کے جوتے کھائے گا۔جیسے استعدادوں کے دائرے مختلف ہیں اسی طرح پر کلام الہٰی کے دوائر بھی مختلف ہیں ۔
اسی طرح پر کرامات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جب کہ رکھا ہوا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ کلام کا اعجاز نہ کرھا جائے جیسے ہر زمانہ میں کرامات ہوتی رہی ہیں۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اعجازی کلام کے ثبوت ک ے لئے کلام کا معجزہ بھی رکھا ہے جیسے حضرت عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی وہ چند سطریں معجزہ تھیں۔اس زمانہ میں بھی قرآن شریف کے کلام کے اعجاز کے لئے کلام کا معجزہ دیا گیا ہے اسی طرہ پر جیسے دووسرے خوارق اور نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اور خوارق کے ثبوت کے لئے دئے گئے ہیں جس جس قسم کے نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے تھے اسی رنگ پر اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نشانات کو رکھا ہے۔کیونکہ یہ سلسلہ اسی نقش قدم پر ہے اور دراصل وہی سلسلہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بروزی آمد کی پہلے ہی سے پیشگوئی ہو چکی تھی اور آخرین منھم ( الجمعہ:۴) میں یہ وعدہ کیا گیا تھا پس جیسے آپ کو اس وقت کلام کا معجزہ اور نشان دیا گیا تھا اور قران شریف جیسی لا نظیر کتاب آپ کو ملی ۔اسی طرح پراس رنگ میں آپ کی اس بروزی آمد میں بھی کلام کا نشان دیا گیا,دیکھ لو کس قدر تحدی کے ساتھ غیرت دلانے والے الفاظ میں مقابلہ کے واسطے بلایا