لالہ شرمپت کا حسن ظن
پھر حضرت اقدسؑ نے ذکر سنایا کہ
شرمپت آریہ میرے پاس مشورہ لینے آیا تھا کہ مجھے بخار سا معلوم ہوتا ہے۔جسم گرم ہے۔ٹیکہ کرائوں یا نہ۔میں نے کہہ دیا کہ نہ کرائو کیونکہ اس میں تو حرارت اور زیادہ ہوگی۔
فرمایا :-
ان لوگوںکا دستور ہے کہ مجھ سے ہمیشہ مشورہ دریافت کرتے ہیں بلکہ لیکھرام کے قتل کے دنوں میں ایک دفعہ یہ دوا پوچھنے آیا تو میں نے کہا کہ اس وقت تو تم ہمیں دشمن جانتے ہو کہ اس کے قاتل ہم ہیں۔ہماری دوا تم کو لینی مناسب نہیں ہے مگر اس نے کہا کہ ہم کو یقین ہے آپ دوا دے دیں۔
ایک الہام
فرمایا :-
رات کو مجھے ایک اور فقرہ الہام ہوا تھا بھول گیا تھا اب یاد آیا ہے وہ یہ ہے
احسب الناس ان یتر کو اان یقولو اامنا وھم لا یفتنون
مخالفین سے شفقت
اس کے بعد میاں احمد دین صاحب عرائض نویس گوجرانوالہ نے مقدمہ کے متعلق کچھ گفتگو حضرت اقدسؑ اور آپ کے موجودہ احباب سے کی حضرت اقدسؑ نے ایک مقام پر فرمایاکہ:-
ہماری مراد سزا سے نہیں ہے کہ اسے سزا ضرور ہو۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے یوسف کی حقیقت عزیز مصر کے سامنے کھل گئے تھی ویسے ہی ہماری بھی حقیقت کھل جائے۔یوسف نے جیل خانہ سے باہر قدم نہیں نکالا جب تک اپنا باعصمت ہونا ثابت نہ کرا دیا۔؎ٰ
۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ (بوقت سیر)
دابۃ الارض کی حقیقت
حسب معمول حضرت اقدسؑ سیر کے لئے باہر تشریف لائے اور نواب محمد علی خان صاحب کے