اہل اسلام پشاور نے امدادی چندہ کر کے ایک دکان کھول دی تھی حکیم صاحب نے بیان کیا کہ آج اس کا خط آیا ہے کہ مسلمانوں نے جو امدادی طور پر چندہ سے مجھے دکان کھول دی تھی وہ اب اس لحاظ سے ضبط کرلی ہیکہ میں قادیان گیا اور بیعت کی۔ حضرت اقدس نے فرمایا :- ابتلاء ہے۔صبر کرنا چاہئے۔ پھر آج صبح جو گفتگو حفاظت الٰہی کے وعدوں کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام نے سیر میں کی تھی اس کا اعادہ حکیم نورالدین صاحب سے کیا اور اپنے الہام اور گھر کا خواب سنایا اس گفتگو میں حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا :- سعید فرقہ جو کہ عذاب سے نجات پانے والا ہے وہ انعمت علیھم (الفاتحہ : ۷) ہے اور جو عذاب میں مبتلا ہونے والا ہے وہ مغضوب علیھم (الفاتحہ : ۷) ہے۔ مغضوب علیھم اور ضالین میں وہی فرق ہے جو ایک مرییض محرقہ اور مدقوق میں ہوتا ہے کہ ایک جلدی ہلاک ہو جاتا ہے اور ایک آہستہ آہستہ ہلاکت تک پہنچتا ہے مگر انجام کا دونو ہلاک ہوتے ہیں کوئی آگے کوئی پیچھے۔ کتب سابقہ میں حفاظت الٰہی کا وعدہ پھر مفتی محمد صادق صاحب نے حسب الحکم حضرت اقدس ؑ وہ تمام حوالہ جات کتب سابقہ کے سنائے جن کا ارشاد حضرت اقدس نے آج صبح کی سیر میں کیا تھا اور اس کا خلاصہ یہ ہے۔ زبور ۹۱:- ’’وہ جو حک تعالیٰ کے پردہ تلے سکونت کرتا ہے سو قادر مطلق کے سایہ تلے رہے گا میریا خدا جس پر میرا توکل ہے یقینا وہ تجھ کو صیاد کے پھندے سے اور مہلک وبا سے رہائی دے گا۔وہ تجھے اپنے پروں تلے چھپائے گا…اور نہ اس وبا سے جو اندھیرے میں چلتی ہے اور نہ اس مری سے جو دوپہر کو ویران کرتی ہے تیرے آس پاس ایک ہزار گر جاویں گے اور دس ہزار تیرے دہنے ہاتھ پر۔لیکن وہ تیرے نزدیک نہ آوے گی تو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن تیار کیا اس لئے تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی اور کوئی وبا تیرے خیمے کے پاس نہ پہنچے گی‘‘۔