اس پر حضرت اقدس نے ہنس کر فرمایا :-
وہی مثال ہے جس کا ذکر مثنوی میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی مان بدار تھی اس نے اسے مار ڈالا لوگوں نے کہا کہ ماں کو کیوں مار ڈالا؟اس کے دوستوں کو مارنا تھا اس نے جواب دیا کہ ایک کو مارتا دو کو مارتا آخر کتنوں کو مارتا؟اس لئے اسے ہی مارنا مناسب تھا یہی حال ٹیکہ کا ہے۔
طاعون کا دورہ
میرے نزدیک طاعون کے جتنے عدد ہیں اتنے ہی سال تک اس کا دورہ ہوتا ہے حدیث میں ہے کہ آخر زمانہ میں لوگ خدا سے لڑائی کریں گے تو اب یہ خد سے لڑائی ہی ہے لوگ خود کہیں گے کہ خدا سے لڑرہے ہیں۔
ہمارا الہام بھی ہے کہ اجھز جیشی یعنی میں اپنا لشکر تیار کر رہا ہوں ہمیں یہ تو خوشی ہے کہ سمجھ دار لوگ خوب خبردار ہو جاویں گے خدا کی قدرت ہے کہ وہی وقت آگیا ہے اور وہی موسم ہے جس کا ذکر تھا اور اس پر خدا تعالیٰ نے گواہی بھی دے دی اب یہ نہ مانیں توا صل میں خدا کا انکار ہے یہ لوگ ہمارے آگے حدیثیں پیش کرتے ہیں حالانکہ اس نے حکمہو کر آنا ہے پھر ان کو حکم تو یہ ہے کہ تم کو بولنا نہ چاہئے جو حکم کہے وہ مان لو تقویٰ ہوتا تو یہ لوگ کبھی نہ بولتے اگر فیالواقعہ ہی ان کے ہاتھ میں کوئی حدیث ہوتی تو پھر اسے غایت مرتبہ ظن کا ہوتا مگر اصل میں ان لوگوں کو یقین ہی نہیں ہے۔
مگر کیا قساوت قلبی ہے کہ جس قدر گندی اور فحش باتیں ہیں ارو تحقیر اور توہین ممکن تھی ارو جہاں تک ان کا ہاتھ پڑتا تھا وہ تمام افترا بنائے ۔صرف چند ایک باتیں گورنمنٹ کے قانون کے ڈر سے ا۲ن سے باقی رہ گئے ہیں۔اکالئے جو ہوئے۔
پھر میاں احمد دین صاحب عرائض نویس درجہ اول ساکن گوجرانوالہ سے حضرت اقدس بعض قانونی وجوہات پر گفتگو فرماتے رہے ایک مقام پر فرمایا کہ
قانون بھی ایک موم کی ناک ہوتا ہے اس لئے کچی بات ہر گز نہ پیش رکنی چاہئے اور ایسی کچی بات کے پیش کرنے سے تو اس کا پیش نہ کرنا ہی اچھا ہے۔
ایک نو مسلم پشاوری کا ذکر
نماز مغرب کے بعد حکیم نورالدین صاحب نے ایک نو مسلم پشاوری کا حال سنایا جو گزشتہ ماہ میں پساوری جماعت کے ساتھ پشاور سے آیا تھا اور حضرت سے بیعت کی تھی ان نو مسلم صاحب کو