پھر فرمایا کہ :-
انہ اوی القریۃ میں قریہ کا لفظ ہے قادیان کا نام نہیں ہے اور قریۃ، قیر سے نکلا ہے جس کے معنے جمع ہونے اور اکتھے بیٹھ کر کھانے کے ہیں وہ لوگ جو آپس میں مواکلت رکھتے ہوں اس میں ہندو اور چوڑھے بھی داخل نہیں ہیں۔کیونکہ وہ تو ہمارے ساتھ مل کر کھاتے ہی نہیں۔قریہ سے مراد وہ حصہ ہوگا جس میں ہمارا گروہ رہتا ہے۔
مسیح موعود کے اپنی جماعت کو طُور پر لے جانے کا مطلب
پھر ذکر ہوا کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ مسیح اپنی جماعت کو کوہ طور پر لے جائے گا۔
حضرت اقدس نے فرمایا :-
اس کے یہ معنے ہیں تجلی گاہ حق میں لے جانا ؎ٰ یعنی قرب اور ہیبت کے مقام پر لے جائے گا کہ جس سے جماعت کی تبدیلی ہوتی ہے کہ ایک طرف تو طاعون کو دیکھ کر اور دوسری طرف ہماری تعلیم کو دیکھ کر وہ خدا تعالیٰ کی تجلیات کو نظر میں رکھیں گے عظیم الشان معاملہ آپڑا ہے گورنمنٹ نے ہر ایک فرقہ کو لپیٹ لیا ہے۔
مولوی محمد احسن صاحب نے کہا کہ حضور یہ لوگ پہلے اعتراض کرتے تھے کہ ہم گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں مگر اب کیا کہیں گے کیا یہ کاروائی تیکہ کی خوشامد سے ہے کہ جس سے ہم نے اتفاق نہیں کیا۔
نواب محمد علی خان صاحب نے کہا کہ ٹیکہ بھی کہاں تک لگے گا۔