اور ان کا عدم وجود معاذ اللہ برابر ہے۔مگر ایسا نہیں ہے وہ دنیا کے لئے بہت سے برکات اور فیوض کے باعث بنتے ہیں اور ان سے خیر جاری ہوتی ہے جس طرح آفتاب سے ساری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے اور اس کا فائدہ کسی خاص حدتک جا کر بند نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض وبرکات کا آفتا ب ہمیشہ چمکتا ہے اور سعادت مندوں کو فائدہ پہنچتا رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ( آل عمران:۳۲)یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کے محبوب بن جائو تو میری اطاعت کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا آپ کی سچي اطاعت اور اتباع انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پس جب کہ آپ کی اتباع کامل اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے پھر کوئی وجہ نہیں ہو سکتی ہے کہ ایک محبوب اپنے محب سے کلام نہ کرے ۔ اگر یہ مانا جاوے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو باوجود محبوب بنانے کے پھر بھی اس سے کلام نہیں کرتا تو ، یہ محبوب معاذ اللہ ابکم ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے لئے یہ نقص ٹھہراتا ہے کہ وہ کلام نہیں کرتے ، مگر ہم یہ ثابت کرنے کو تیار ہیں۔اور اسی غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کے آثار اور ثمرات ہر وقت پائے جاتے ہیں۔ اس وقت بھی وہ خدا جو ہمیشہ سے ناطق خدا ہے اپنا لذیذ کلام دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے۔اور قرآن شریف کے اعجاز کا ثبوت اس وقت بھی دے رہا ہے یہ قرآن شریف ہی کا معجزہ ہے کہ جو ہم تحدی کر رہے ہیں کہ ہمارے بالمقابل قرآن شریف کے حقائق و معارف عربی زبان میں لکھو اور ک سی کو یہ قدرت نہیں ہوتی کہ مقابلہ کے لئے نکل سکے۔ہمارا مقابلہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ہے کیونکہ وآخرین منہم لما یلحقوا بہم( الجمعہ:۴) جو فرمایا گیا ہے ۔اس وقت جو تعلیم کتاب والحکمت ہو رہی ہے اس کی اصل غرض یہی ہے کہ قرآ ن شریف کا معجزہ ثابت ہو۔ ماحصل یہ ہے کہ قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ اول مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اس کے فیوض و برکات کا در ہمیش جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت او رعزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو گااور وحی الہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا ہو گا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے