خدا کے ساتھ ٹھیک نہ ہو تو وہ گویا دونو طرف سے محروم رہا ۳؎ پھر اگر ہماری جماعت میں سے کسی کو طاعون ہو گا تو اس کا اثر اس کے ایمان پر بھی پڑے گا وہ خیال کرے گا کہ میں تو بیعت میں تھا مجھے کیوں طاعون ہوئی خدا کسی کی ظاہری صورت کو نہیں دیکھتا وہ اس منشاءکو دیکھتا یہ جو انسان نے اپنے دل میں بنایا ہوا ہے خدا کے ساتھ صفائی ایک مشکل کام ہے طاعون اگر چہ مومن کے واسطے ایک خوشی ہے مگر چونکہ مخالف کہتے ہیں کہ یہ تمہاری شامت سے ئئی ہے اس لئے اگر یہ جماعت اسی طرح تباہ ہو جس طرح دوسرے تباہ ہوتے ہیں تو پھر تو ان کو خوب ثبوت مل جائے گا کہ واقعی ہماری شامت سے آئی ہے اور اگر ٹیکہ لگوانے والے بھی ہلاک ہوں اور تم بھی ہلاک ہو تو پھر بھی کوئی تمیز نہیں رہتی۔اس لئے تبدیلیاں پیدا کرنی چاہئیں کشتی نوف میں میں نے بہت کثھ کہتا تھا مگر انشاء اﷲ پھر کسی دوسرے موقعہ پر لکھا جائے گا۔اتنا لکھا بھی کافی ہے۔
مجھے یہ فکر ہے کہ وہ مثل نہ ہو ’’یکے نقصان مایہ ودیگر شماتت ہمسایہ‘‘۔ایک تو مریں اور پھرجھ