شور ڈالین گے کہ دیکھوٹیکہ نہ کرایا تو ہلاک ہوئے اور اگر وہ بچے رہے تو ہنسیں گے خدا کے کام اور حفاظت سے حصہ لینے والا وہ شخص ہے جو اپنے دل میں سمجھ لے کہ میں نے تبدیلی پیدا کر لی ہے صحابہ کرام ؓ کی طرح ہو جائے۔جس طرح انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے تھے۔ ۱؎
عذاب شدید آنے والا ہے فرق سے فرق ہوتا ہے اگر بیعت کے وقت وعدہ اور ہے اور پھر عمل اور ہے تو دیکھو کتنا فرق ہے اگر تم خدا سے فرق رکھو گے تو وہ تم سے فرق رکھے گا اگر ہماری جماعت میں سو آدمی مرجائیں تو ہم یہی کہیں گے کہ کہ ان کے دلوں میں فرق تھا کیونکہ ہمین کسی کے اندرونہ کا کیا حال معلوم ہے عیسیٰ اور موسیٰ کے وقت کیا ہوا۔ ۲؎ہم دواؤں کی تاثیرات سے منکر نہیں ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ ادھر تم نے ٹیکہ نہ کرایا اور اگر چند ایک لگو مبتلا ئے طاعون ہوئے تو وہ لوگ کسی قدر ہنسیں گے جنہوں نے ٹیکہ کرایا ہوگا مگر بڑا بے وقوف ہے جو کہ اس دوا کو بھی نہ پیوے اور پھر اس دوا سے بھی محروم رہے کہ اس کا معاملہ