یا پرسوں پھر آویں گے حضرت اقدس نے فرمایا :۔
ہمارے دستخط کشتی نوح میں ہیں جو خدا کے ساتھ سیدھا اور راست ہوگا تو طاعون کی کیا مجال کہ اس کے پاس آوے۔
پھر جماعت کو مخاطب کر کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
صحابہؓ میں طاعون ہوتا رہا ہے ہاں انبیاء کو ہرگز نہیں ہوا۔اگر کوئی اس پر سوال کرے تو جواب یہی ہے کہ ہر ایک رنگ جدا ہے ثابت کرو کہ کوئی نبی طاعون سے مرا ہو ورنہ اگر ایسا ہو تا تو اﷲ تعالیٰ کے معا ملہ میں کس قدر فتنہ برپا ہوتا یہ کبھی نہیں ہوا کہ یہودیوں کو طاعون ہوا ہو تو موسیٰ ؑکو بھی ساتھ ہوا ہو ورنہ سارے یہودی مرتد ہو جاتے۔
طاعون کا علاج
ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ٹیکہ بھی علاج نہیں اور اﷲ تعالیٰ کا حفاظت کا وعدہ ہے تو پھر مرہم عیسیٰ اور جدوار کا استعمال کیوں بتلایا ہے
حضرت صاحب نے فرمایا کہ :۔
جو علاج اﷲ تعالیٰ بتلاوے وہ تو اسی حفاظت میں داخل ہے کہ اس نے خود ایک طریق حفاظب بھی ساتھ بتلا دیا اور انشراح صدر سے ہم اسے استعمال کرسکتے ہیں لیکن اگر ٹیکہ میں خیر ہوتی تو ہم کو اس کا حکم کیا جاتا اور پھر دیکھتے کہ سب سے اول ہم ہی کرو اتے اگر خدا تعالیٰ آج ہی بتلادے کہ فلاں علاج ہے یا فلاں دوا مفید ہے تو کیا ہم اسے استعمال نہ کریں گے؟ وہ تو نشان ہوگا۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم خود کس قدر متوکل تھے مگر ہمیشہ لوگوں کو دوائیں بتلاتے تے اگر ہم عوام الناس کی طرح ٹیکہ کروائیں تو خدا پر ایمان نہ ہوا پہلے یہ تو فیصلہ کیا جائے کہ آیا ہم نے ۲۲ برس پہلے طاعون کی اطلاع دی۔کہ جس وقت طاعون کانام و نسان تک نہ تھا اور پھر ہر ۵ برس بعد اس کے متعلق ضرور کوئی نہ کوئی خبر دی جاتی رہی ہے پھر پنجاب کے متعلق خبر دی حالانکہ اس وقت کوئی مقام اس میں مبتلا نہ تھا۔پھر ایک دم پنجاب کے ۲۳ ضلعوں میں پھیل گئے وہ تمام کتابیں جن میں یہ بیان ہیںخود گورنمنٹ کے پاس موجود ہیں اگر ٹیکہ میں کوئی خیر ہوتی تو خدا خود ہمیں بتلا تا ارو ہم اس وقت سب سے پہلے ٹیکہ لگوانے میں اول ہوتے مگے جب گورنمنٹ نے اختیار دیا ہے تو یہ اختیار ہے گویا خدا تعالیٰ ہے نے ہمیں دیا ہے کہ جبراً اٹھوا دیا ہے۔
طاعون کے سلسلہ میں جماعت کو نصیحت
ہماری جماعت کا صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہی نہ ہو کہ وہ اس دعویٰ بیعت پر نازاں رہیں بلکہ ان