حلال ہے۔ مردوں کے قبروں سے نکلنے کی تعبیر پھر اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب ایک انگریزی کتاب حضرت اقدس کو سناتے رہے جس میں ایک موقعہ پر یہ بھی تھا کہ جب مسیح کو صلیب دی گئے تو اس وقت مردے قبروں میں سے نکلے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا:۔ عالم رؤیا میں مردہ کے قبر سے نکلنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ کوئی گرفتار آزاد ہو ممکن ہے کہ کسی نے اس وقت عالم کشفی میں یہ دیکھا ہو ورنہ یہ اپنے ظاہری معنوں میں ہرگز نہیں ہوا۔ طاعون کی کیا مجال ہے کہ اس کے پاس آئے احباب میں سے ایک نے ذکر سنایا کہ آج قادیان میں ٹیکہ والے آئے تھے باہر باغ میں انہوں نے سب کو بلایا اور ایک لمبی تقریر کی جس میں ٹیکہ کے فوائد لوگوں کو بتلائے انجام یہ ہوا کہ سب سے اس امر پر اتفاق کر لیا کہ ہم ٹیکے لگوائیں گے۔تقریر کرنے والے صاحب رائے پرتاپ سنگھ تھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے مرزا صاحب کو بھی تاکید کرنی تھی مگر چونکہ انہوں نے ماننا نہیں اور ڈھنگ بنایا ہوا ہے اس لئے سردست ان کی خدمت میں کچھ نہیں کہتا پھر کسی وقت موقعہ ہوا تو کہوں گا میں یہاں پر نہ آتا مگر چونکہ متواتر طور پر رپورٹ پہنچی کہ چوڑھوں میں طاعون ہے ا سلئے آنا پڑا اس پر حکیم نورالدین صاحب نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں نہالی چوڑھی آتی یہ میں نے اس سے طاعون کا حال دریافت کیا تھا کہنے لگی کہ طاعون تو ہے نہیں ایک لڑکی مری ہے وہ کئی دنوں سے بیمار گھی اب کہتے ہیں کہ طاعون سے مری۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ چوڑھوں میں ہمیشہ کبھی نہ کبھی ایسی موتیں ہوتی ہی رہتیں ہیں ایک دفعہ اسی موسم میں پچاس آدمی ہیضہ سے مر گئے تھے حالانکہ طاعون وغیرہ نہ تھی اور چوڑھوں کا محلہ تو ہم سے ایسا ہی دور ہے جیسے کہ ننگل۔بھینی؎ٰ۔یہ لوگ زبردستی اسے الحاق کرتے ہیں (آخر کار چوڑھوں کی موت کی یہ وجہ معلوم ہوئی کہ ان لوگوں نے مردہ مویشی اس وقت کھائے جب کہ وہ متعفن ہو گئے تھے)۔ پھر بیان کیا گیا کہ ٹیکہ والوں نے سرِدست کل اکابرین ہندو‘ مسلمان کے دستخط کرائے ہیں شاید کل