وغیرہ بھی ہوتی ہے۔خواہ لوگ ایک مبتلائے مخار کو طاعون کہہ کر نکال دیں۔
الدار کی حفاظت
فرمایا:۔
آج میری زبان پر پھر یہ الہام جاری تھا۔
انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علو امن ا ستکبار۔ ؎ٰ
الاالذین علوا ہمیشہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔خدا معلوم اس کے کیا معنے ہیں۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ لوگ متنبہ رہیں۔تقویٰ پر قائم رہیں۔ایک علو تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے کہ
اما بنعمۃ ربک فحدث (الضحیٰ : ۱۲)
اور ایک علو شیطان کا ہوتا ہے جیسے
ابیٰ واستکبر (البقرہ : ۳۵)
اور اس کے بارے میں ہے
ام کنت من العالین (ص : ۷۶)
یہ اس سے سوال ہے کہ تیرا علو تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے۔خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلیٰ کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے جیسے
انک انت الاعلیٰ (طہ : ۶۹)
مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبر سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ ۲؎
شاہ عبد العزیز صاحب کے ایک شاگرد کا غلط فتویٰ
شاہ عبداعزیز صاحب کے شاگردوں میں سے ایک کا ذکر ہوا فرمایا کہ :۔
ایک دفعہ وہ شاید بٹالہ میں تھے تو ایک نے حقہ کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا (حالانکہ غلط تھا) کہ حقہ دو قسم کا ہے ایک وہ جو تکیوں میں ہوتا ہے دس دس دن تک پانی نہیں بدلتے اسے غسل نہیں دیتے وہ تو حرام ہے اور دوسرا جس کا پانی بدلتا رہتا ہے اور اسے غسل دیتے رہتے ہیں وہ ح