ان کے اتنی جلدی تشریف لانے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ]:۔
ریل بھی ایک عجیب شئے ہے ایک خارق عادت طور پر انسان کہیں کا کہیں جاپہنچتا ہے۔
(ایک شخص نے اپنی آنکھوں کے مرض سے شفا پانے کے لئے دعا کی در خواست کی)۔
حضرت اقدس ؑ نے فرمایا:۔
’’اچھا کریں گے‘‘۔پھر فرما یا کہ :۔
آنکھ کان ناک وغیرہ اﷲ تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔انعام کی بھی کیا عجیب راہ اختیار کی ہے۔اگر ایک آنکھ جاتی رہے تو کس قدر بلا بازل ہوتی ہے۔
پنجابؔ میں طاعون کی ترقی
پھر حضرت اقدسؑ نے نواب محمد علی خان صاحب سے طاعون کا حال مالیر کوٹلہ کی طرف دریافت فرمایا۔نواب صاحب نے جواب دیا کہ کچھ شروع ہے مگر کم۔اب کے دفعہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ہفتہ کل ہندوستان مین تو کم ہے مگر خاص پنجاب میں بہت ترقی پر ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ
’’پنجاب ہی بگڑا ہوا ہے کوئی اس کا سِرّ تو دریافت کرے‘‘۔
فرمایا:۔
’’حکماء نے لکھا ہے کہ الطاعون ھوالموت جس کے آثار ردی ظاہر ہوں۔رنگ سیاہ ہو جائے اور جلد جلد موت ہو تو وہ بلائے آسمانی ہوتی ہے۔ورنہ مسابہ بالطاعون گلٹیوں کا ہونا اور بخار کا ہونا طاعون نہیں۔ایک دفعہ ہمارے سب بچوں کو گلٹیاں نکل آئیں صرف اینٹ گرم کر کے سینکتے رہے۔سب کو آرام ہو گیا۔
طاعون تو ایک سِرّ مخفی کی طرح ہے۔ورنہ بعض اوقات اس کے عوض ہو کر پھر انسان کو کچھ نہیں ہوتا‘‘۔
احمد دین صاحب اپیل نویس نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ سرکار نے یہ قانون پا س کیا ہے کہ اگر ایک محلّہ میں ایک مریض کو طاعون ہو اور اس محلّہ کے پانچ کس یہ کہیں کہ اسے نکالا جائے اور پانچ صدیہ کہیں کہ نہ نکالو تو ان پانچ کی رائے پر عملدرآمد ہوگا۔اور اگر مریض یا اس کے ورثاء اس کی خلاف ورزی کریں تو زیر دفعہ ۱۸۸ وہ مجرم گردانے جائیں گے۔
حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ:۔
ایک طرح سے گورنمنٹ نے اپنے سر سے بلا اتار کر رعایا پر ڈال دی ہے۔محلہ میں اکثر عداوت