مسیح ناصری کے متعلق مروجہ عقائد کا نتیجہ [ایک شخص نبی بخش نام ساکن بٹالہ نے آپؑ کو لکھا کہ میں عیسائیوں س بحث کرنے لگا ہوں حضور نے اس کو لکھا کہ] تم عیسائیوں سے کیا مباحثہ کرو گے؟ ان کی ساری باتیں تو تم خود مانتے ہو۔عیسیٰ علیہ السلام کی زندہ آسمان پر سمجھتے ہو۔غیب دان‘ مردوں کو زندہ کرنے والا کہتے ہو۔اور پھر تمہارا یہ اعتقاد ہے کہ صرف وہی مسّ شیطان سے پاک ہے غرض اس قسم کے جب تمہارے عقائد ہیں تو پھر ان سے کیا بحث کرنی چاہتے ہو؟ اس سلسلہ کے بغیر اور کوئی صورت عیسائیوں سے مباحثہ کی نہیں رہی۔ہمارے مخالفوں نے تو اقبالی ڈگری کرالی ہوئی ہے اور ان کے تمام عقائد باطلہ کی تائید کی ہوئی ہے۔ مسیح علیہ السلام کے روح منہ ہونے کی حقیقت میسح کو جو روح اﷲ کہتے ہیں اور عیسائی اس پر ناز کرتے ہیں کہ یہ مسیح کی خصوصیت ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے ان کو معلوم نہیں کہ قرآن شریف میں مسیح پر روح اﷲ کیوں بولا گیا اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے مسیح ابن مریم پر خصوصیت کے ساتھ بہت بڑا احسان کیا ہے جو ان کا تبریہ کیا ہے بعض ناپاک فطرت یہودی حضرت مسیح کی ولادت پر بہت ہی باپاک اور خطرناک الزام لگاتے ہیں اور یہ بیھ ہے کہ بعض ولد اس قسم کے ہوتے ہیں کہ شیطان ان کی پیدائش میں شریک ہو جاتا ہے اس لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح ؑ اور حضرت مسیمؑ کے دامن کو ان اعتراضوں سے پاک کرنے کے لئے اور اس اعتراض س بچانے کے لئے جو ولد شیطان کا ہوتا ہے۔قرآن شریف میں روح منہ (النساء : ۱۷۲) کہا۔اس سے خدائی ثابت کرنا حماقت ہے کیوں کہ دوسری جگہ حضرت آدم کے لئے نفخت فیہ من روحی (الحجر : ۳۰) بھی تو آیا ہے۔یہ صرف تبریہ کیا ہے جو لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں وہ ان سے بحث خاک کریں گے۔؎ٰ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ بروز جمعہ (بعد نماز مغرب) [میاں احمد دین صاحب اپیل بویس گوجرانوالہ سے حسب الحکم حضرت اقدس ؑ تشریف لائے