تعالیٰ نے کَمَاکے نیچے تو مثیل کو رکھا ہے ۔ عین کو نہیں رکھا پھر یہ کس قدر غلطی اوا جرات ہے کہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ایک بات اپنی طرف سے پیداکر لی جائے اور ایک نیا اعتقاد بنالیاجائے اور پھرکَمَا میں مدت کی بھی تعیین ہے کہ کیو نکہ مسیح ؑموسیٰ ؑکے بعد چو دھویں صدی میں آیا ت اس لئے ضروری تھا کہ آنے والا محمدی ؐ مسیح بھی چو دھویں صدی میں غرض آیت ان تمام امور کو حل کرتی ہے ۔ اگر کوئی سوچنے ولا ہو ۔ ابنِ مریم کے آنے سے مُراد ابن مریم کا سوال بھی خدا تعالیٰ نے بڑی صفائی سے حل کیا ہوا ہے سورہ التحریم میں اس راز کو کھو ل دیا ہے کہ مومن مریم صفت ہوتاہے ‏Amira 26-3-05 اور پھر اس میں نفخ روح ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے اسی ترتیب سے پہلے میرا نام مریم رکھا ۔پھر ایک وقت آیاکہ اس میں نفخ روح ہوا اب مریم کے حمل سے جیسے مسیح پیدا ہوا۔جو اسی روح القدس کے نفخ کا نتیجہ تھا اس لئے یہاں خود مسیح بنا دیا۔براہین احمدیہ کو قرآن شریف کی اس آیت کے ساتھ جو سورۃ تحریم میں بیان ہوئی رکھ کر دیکھو او رپھر اس ترتیب پر غور کرو کہ جو براہین میں رکھی ہے کہ پہلے نام مریم رکھا پھر نفخ روح کیا اور پھر یاعیسیٰ کہہ کر پکارا اس آیت کی تفسیر کے لئے بھی دراصل یہی زمانہ تھا زمانہ بھی ایک قسم کی عقیم کی صورت پر ہوتا ہے۔ اور روح اﷲ اس لئے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کو حضرت مسیح کا تبریہ منظور تھا کیونکہ بعض اولاد میں شیطان کی شرکت ہو جاتی ہے اس واسطے روح اﷲ کہہ کر اس الزام کو درو کیا غرض حضرت مریم کے متعلق جس قدرواقعات قرآن شریف میں ہیں وہی الہام یہاں بھی موجود ہیں یلیتنی مت قبل ھذا (مریم : ۲۴) در اصل جس قسم کی گھبراہٹ مریم کو تھی اسی قسم کا جوش اب بھی یہودیوں میں پیدا ہوا ہے اور ایسا ہی انی لک ھذا بھی براہین میں درج ہے۔ مولوی نذیر حسین دہلوی کی وفات کی خبر آنے پر الہام مولوی نذیر حسین دہلوی کے مرنی کی خبر آئی تو زبان پر اس کے لئے جاری ہوا مات ضال ھا ئما ؎ٰ