۱۶۔ اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ ( در بار ِشام) ایک رؤیا (بعدادائے نماز مغرب حضرت اقدس امام علیہ الصلٰوۃ شہ نشین پر اجلا س فرماہوئے تو آپ نے بیٹھے ۱؎ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹صفحہ ۴تا ۶ مورخہ ۳۱اکتوبر ۱۹۰۲ء ہی اپنی ایک رویا سنائی کہ میں نے اپنے والد صاحب کو خواب میں دیکھا (دراصل ملائکہ کا تمثل تھا نگر آپ کی صورت میں ) آپ کے ہاتھ میںایک چھوٹی سی چھڑی ہے گویا مجھے مارنے کے لئے ہے میں نے کہا ۔ کوئی اپنی اولاد کو بھی مارتا ہے جب میں یہ کہتاہوں ۔تو ان کی آنکھیں پر آب ہو جاتی ہیں ۔پھر وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ تو میں یہی کہتا ہوں ۔ آخر دو تین بار جب اسی طرح ہوا ۔ پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک الہام میں یوں بھی فرمایا ہے ۔ انت منی بمنز لۃ او لادی۔ اور یہ قرآن شریف کی ایک آیت کہ موافق بھی ہے ۔ نحن ابنوا اللہ و احباوہ قل فلم یعذبکم ۱؎ ( المائدۃ:۱۹) ختمِ نبّوت غیراُمّتی نبی کے آنے کو مانع ہَے ختم نبوت بھی ایک عجیب سلسلہ ہے اللہ تعالیٰ نبوت کو بھی قائم رکھتا ہے اور اسی کے استفادہ سے ایک سلسلہ جاری کرتا ہے یہ تو ایک علمی بات ہے مگر کجا یہ کہ اس سلسلہ کو الٹ پلٹ کر دوسرے نبی کو لایا جاوے ۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی حکمت اورارادہ نہیںچاہتا کہ کوئی دوسرا نبی آوے ۔ قطع نظر اس کے کہ وہ شریعت رکھتا ہو۔خواہ شریعت نہ بھی رکھتا ہو تب بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا نبی آپ کے سوا اور آپ کے استفادہ سے الگ ہو کر نہیںآسکتا ۔ ساری براہین احمدیہ اس قسم کی باتوں سے بھری پڑی ہے اور بہت سے الہام اس کے ممدومعاون ہیں ۔ علاوہ اس کے کما استخلف الذین (النور :۵۶) جو استخلاف کا وعدہ ہے یہبھی اسی امر پر صاف دلیل ہے کہ کوئی پرانا نبی اخیر تک نہ آوے ورنہ ’’کَمَا‘‘ باطل ہوتاہے اللہ