اس کا دل نرم ہوجائے اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا جب شدت عذاب ہو اور اس وقت ڈرنے لگتاہے توپھر شریر اور حق شناس میں کیا فرق ہوا؟
غرض اس وقت کے تعلقات جو خدا تعالیٰ سے قائم کرو گے وہ کام آئیں گے کیا اچھاکہا ہے حافظ نے ؎؎؎؎؎؎؎
چو کارے عمر ناپید است بارے آں اولیٰ
کہ روزے واقعہ پیش نگارے خودباشیم
اور ایک یہ بھی علاج گناہوں سے بچنے کا کہ کشتی نوح میں جو نصائح لکھی ہیں کہ ان کو ہر روز ایک بار پڑھ لیا کرو ۔
درِبار شام
حضرت مولانا نورالدین صاحب کی طبیعت کل ناساز تھی آج الحمدللہ اچھی تھی حضرت اقدس نے حال دریافت فرمایااورپھر فرمایا کہ :۔
ہم نے جو تصرفا ت اللہ کے دیکھے ہیں اس سے تو بعض وقت دواؤں کا بھی خیال نہیںآتا بعض وقت ہم کو دوا سے شفا ہو ئی اور بعض وقت محض دعاسے ۔ میں نے دعا کی کے بدون دوا کے شفا دے تو پھر اذن ہو ا کہ ہم نے شفاد ی اور شفا ہو اگئی ۔
اللہ تعالیٰ سُنتا ہے اور جواب دیتا ہَے
اس خدا پر ایمان لانے کاکیا مزا ہے جو قریب قریب بتوں کے ہو نہ سنتا ہو اور نہ جواب دے اس پر خدا پر ایمان لانے سے مزا آتا ہے جو قدرتوں اور تصرف پر ایمان نہیں رکھتا اس کا خدا بت ہے ۔ اصل میں خدا تو ایک ہی ہے مگر تجلیات الگ ہیں جو اس بات کاپابند ہے اس سے ایسا ہے سلوک ہوتا ہے اورجو متوکل ہے اس سے وہی ۔
اگر خداتعالیٰ ایسا ہی کمزور ہوتا ہے توپھر نبیوں سے بڑھ کر کوئی ناکام نہ ہوتا کیونکہ وہ اسباب پرست نہ تھے بلکہ خدا پرست اور متوکل تھے ۔ ۱؎