انا اعطیناک الکوثر سے معلو م ہوتا ہے کہ آپ کو روحانی اولاد کثیر دی گئی ہے پس اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو ا س پیشگوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے۔ اس لئے ہر حالت میں ایک سچے مسلمان کو ماننا پڑے گا اور ماننا چاہئیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی ابدالآباد کے لئے ویسی ہی ہیں جیسی تیرہ سو برس پہلے تھیں ؛چنانچہ ان تاثیرات کے ثبوت کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اب وہی آیات و برکات ظاہر ہو رہے ہیں۔ سچی بات یہی ہے کہ اگر اہدنا الصراط المستقیم نہ ہوتا تو سالک جو اپنے نفس کی تکمیل چاہتے ہیں مرہی جاتے۔ لاہور میں ایک مولوی عبدالحکیم صاحب سے مباحثہ ہوا تھا تو ہم نے اس کو یہی پیش کیا تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے مکالمات سے کیوں ناراض ہوتے ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تو محدث تھے اس نے صاف طور پر انکار کیا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضی طور پر کہا تھا حضرت عمربھی محدث نہ تھے یہ محال ہے کہ آئندہ کسی کو الہام ہو ۔ان کو اس پر بالکل ایمان نہیں ہے وہ مکالمات کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کو انہوں نے گونگا خدا مان لیا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن شریف میںجو یہ آیا ہے لہم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا (یونس:۶۵) اس کا ان کے نزدیک کیا مطلب ہے اور جب ملائکہ ایسے مومنوں پر نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارتیں دیتے ہیں تو وہ بشارتیں کس طرف سے دیتے ہیں۔اس اعتقاد پر پھر قرآن شریف کا ان کو انکار کرنا پڑے گا کیونکہ سارا قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ مکالمہ کا شرف عطا ہوتا ہے اگر یہ شرف ہی کسی کو نہیں ملتا تو پھر قرآن شریف کی تاثیرات کا ثبوت کہاں سے ہو گا اگر آفتاب دھندلا اور تاریک ہے تو اس کی روشنی پر کوئی کیا فرق کر سکے گا۔او رکیا یہ کہہ کر فخر کرے گا کہ اس میں روشنی نہیں بلکہ تاریکی ہے۔٭ اس طرح پر قرآن شریف کی تاثیرات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی برکات کے لئے یہ اعتقاد کرنا کہ وہ ایک وقت خاص پر ایک شخص خاص ہی کے لئے تھے آئندہ کے لئے ان کا سلسلہ بند ہو گیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبی اور توہین ہے اور نہ صرف قرآن شریف اور آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی بلکہ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر اعتراض کرنا ہے۔ یاد رکھو کہ نبیوں کا وجود اس لئے دنیا میں نہیں آتا کہ وہ محض ریا کاری اور نمود کے طور پر ہو اگر ان سے کوئی فیض جاری نہیں ہوتا اور مخلوق کو روحانی فائدہ نہیں پہنچتا۔ تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ صرف نمائش کے لئے ہیں ۔