قرآن مجید کے ہوتے ہوئے ایک مصلح کی ضرورت
( پھر اسی نوجوان نے عرض کیا کہ انہوںنے یہ سوال بھی مجھ سے کیاکہ قرآن شریف تو محرف مبدل نہیں ہوا کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے ؟ )
فرمایا کہ :۔
کیا خدا کی طرف سے کسی کے آنے کی ضرورت کا ایک یہی باعث ہ کہ قرآت شریف محرف مبدّل ہوا اور علاوہ بریں قرآن شریف کی معنوی تحریف تو کی جاتی ہے جبکہ اس میں لکھا ہے کہ مسیح مر گیا اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پڑچڑھ گیا اور تحریف کی ہوتی ہے ؟ یہ لوگ تحریف توکررہے ہیں اور پھر مسلمانوں کی عملی حالت بہت ہی خراب ہورہی ہے نیچریوںہی کو دیکھو ۔انہوں نے کیا چھوڑا ہے بہشت دوزخ کے وہ قائل نہیں ۔ وحی اور دعا اور معجزات کے وہ منکر ہیں انہوں نے یہودیوںکے کان بھی کاٹے یہاں تک کہ تثلیث میں بھی نجات مان لی ۔ یہ حالت ہوچکی ہے اور پھر کہتے ہیں کے کسی آنے والے کی ضرورت نہیں ۔ تعجب کی بات ہے کہ دنیا توگناہ سے بھر گئی ہے مگر ان کی حالت ایسی مسخ ہوئی کہ وہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ کسی مصلح کی بھی ضرورت ہے مگر عنقریب وقت آتا ہے کے خدا تعالیٰ ان کو معلوم کرائے گااوراس کے غضب کا ہاتھ اب نکلتا آتا ہے ۔
زمانہ تو ایساتھاکہ رو رو کر راتیں کاٹتے مگر ان کی شوخی سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ہی بد بخت ہیں ۔
گناہ سے بچنے کاذریعہ
گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خداتعالیٰ کاخوف دل پر ہو اور جب خداتعالیٰ چاہتا ہے تو اپنا خوف ڈال دیتا ہے محبت بھی ایک ذریعہ ہے گناہ سے بچنے کاہے مگر یہ بہت ا علیٰ مقام ہے مگر خوف ایک عام ذریعہ ہے جس سے جوان بھی ڈر جاتا ہے‘خصوصاً ان دنوں میں بلکہ بعض طبیبوں کا قول ہے کہ جوانوں کو بوڑھوں کی نسبت طاعون کازیادہ خطرہ ہے کیونکہ خون میں زیادہ جوش ہوتا ہے پس یہ دن جن کو خدا کاقہر کے دن کہا جاتا ہے دراصل خداتعالیٰ کے رحم کے دن ہیں کیونکہ انسان کو بیدار کرنے والے اور غفلت سے نکالنے والے ہیں چونکہ لوگ غفلت اور گناہ سے باز نہ آتے تھے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ کی چمکار دکھائی۔یقینایادرکھو کہ اب دن برے آتے جاتے ہیں جیسا کہ سب نبیوں نے خبر دی تھی خدا تعالیٰ نے اپناپاک کلام مجھ پریہی بھیجا کہ اب عقوبت کے دن آتے جاتے ہیں جو اس وقت دعاکرے گا اور زور لگائے گا کہ نمازوں میں اس کو رونا آئے اور