ہلاک کر دے گا ان دنوں میں جب موت کابازار گرم ہو اور خدا تعالیٰ کی گرفت کاسلسلہ شروع ہو جائے پھر توبہ کرے اور سمجھے کہ زندگی ناچیز ہے اس سے کچھ فائد حاصل نہیں ۔توبہ اور خداتعالیٰ سے خوف اس وقت مفید ہوتا ہے جبکہ خدا کاعذاب نہ آگیا ہو خدا تعالیٰ سے دور تر وہ ہے جو آنکھ کا اندھا اور دل کا سخت ہو اگر طاعون ن آتی تو بھی ایک دانشمند اور سعید الفطرت کے لیے یہ سبق کافی تھا کہ لوگو ںکے باپ دادا مر گئے اور مرتے جاتے ہیں اور یہاںکوئی ہمیشہ رہ نہیں سکتا۔لیکن اب تو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے مجھے اطلاع دی کہ
الامر اض تشاع والنفوس تضاع
مرضیں پھیلیں گی اور جانیں جائیں گی اور ایساہی فرمایا
غضبت غضبا شدیدا
میںسخت غذب میں بھر گیا ہوں یاد رکھو کہ یہ ساری باتیں ہونے والی ہیں اور ان کے آثارتم دیکھتے ہو پس لازم ہے کہ انسان ایسی حالت بنائے رکھے کہ فرشتے بھی اس سے مصافحہ کریں ہماری بیعت سے یہ رنگ آنا چاہئیے کہ خداتعالیٰ کی ہیبت اور جلال دل پر طاری رہے جس سے گناہ دور ہوں ۔ اگر ان پیشگوئیو ں پر کسی کو ایمان نہ ہوتو کم از کم اتنا ہی سمجھ لے اب توڈاکٹروں کی شہادت سے بھی معلوم ہوگیا ہے کہ خطرناک بیماریاں پیدا ہو گئی ہیں ۔جبکہ ایسا خوف ناک نمونہ پیدا ہوگیا ہے تو وہ شخص کیساہی بد نصیب ہے جو اس وقت بھی غفلت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔
اس بات پر تمام کتابوں کااتفاق ہے اور سب لوگ مانتے ہیںکہ آخری دنوں میں طاعون آئیگی سارے نبی اس کی خبر دیتے آئے ہیںاور یہ جو لکھاہے کہ آخری دنوں میں توبہ کادروازہ بند ہوجائے گا ‘ اس کے یہ معنے ہیںجب موت نے آکر پکڑلیا پھر کیا فائدہ توبہ سے فائدہ ہوگا ؟ پکڑاہوا تو درندہ بھی عاجز ہوجاتا ہے خداتعالیٰ سے ڈرنا چاہئیے اور خدا کاخوف اور خشیت کی پابندی ٔ نماز سے شناخت ہوتی ہے دیکھو انسان گورنمنٹ کے احکام کے کس قدر پابندی کرتا ہے پھر آسمانی گورنمنٹ کااحکام کی جس کو زمینی گورنمنٹ سے کوئی نسبت نہیں کیوں قدر نہیںکرتا ؟ یہ بڑا ہی خطرناک وقت ہے طاعون ایک عذاب الٰہی ہے اس سے ڈرو اور اچھانمونہ دنیا کو دکھاؤ اگر کوئی شخص سلسلہ ہو کر برا نمونہ دکھاتاہے تواس سے سلسلہ پر کوئی اعتراض نہیں آتا کیونکہ سمندر میں توہر ایک چیز ہوتی ہے لیکن وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور اسے شرمندہ ہونا پڑے گا اس واسطے بہت دعائیں کرنی چاہئیں تاکہ خدا تعالیٰ غفلت سے بیدار کرے ۔ سستیوں اور غفلتوں سے گناہ آتے ہیں اور پھر خدا کے خوف کانقشہ آنکھوں میں سے جاتا رہتا پس وہی سعید سعادت کے دامن کے اندر ہے جو اس خطرناک وقت میں ٹھٹھے کرنے والوں کے مجلس میں نہ بیٹھے اورخدا سے تنہائی میں دعائیں کرے اور اس سے ڈرے کہ ایسا نہ ہورات کو یا دن کے کسی حصہ میں ا س کا عذا ب آجاوے ۔