مخالفوںکہ ہاتھ میں مسیحؑ کی وفات کے متعلق کیا ہے جس سے ان کو پوری تسلی ملتی ہے ۔‘‘ سہ سَالہ پیشگوئی سے مُراد (ایک صاحب شاہ جہان پور سے آنے والے نے پوچھا کہ سہ سالہ پیشگوئی سے کیا مرادہے ؟ ) فرمایا:۔ ان میں تین سال کے اندر بہت سی پیشگوئیاںپوری ہوچکی ہیں وہ سب اسی کے ماتحت ہیں او رپھر یہ طاعون والی عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کے ذریعے قریباً دس ہزار لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوئے اور ابھی اڑھائی مہینے باقی ہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اور کوئی خاص عظیم الشان نشان بھی دکھاوے جو ان سب سے بڑھ کر ہو پیغمبر خد ا صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے بڑے معجزات ظاہر ہوتے رہے ہیںلیکن مخالف یہی کہتے رہے فلیا تنا بایۃ کما ارسل الاولون ( الانبیا ء : ۶ ) یہ کتا جو اب لکھی جارہی ہے ہر قسم کے معجزات کا مجموعہ ہے استجابت دعا کا نمونہ ہے اس میںموجود ہے خوارق او رپیشگوئیوں کایہ مجموعہ ہے کوئی غور کرکے دیکھے کہ کیاطاعون ہم نے خود بنالیا ہے اور پھر اعجاز المسیح چھوٹا نشان ہے ؟ ’’منعہ مانع من السماء ‘‘ بھی اسی کے ساتھ ہے نماز میں سُستی دور کرنے کاعلاج (علی گڑھ کے ایک طالب علم نے اپنی حالت کاذکر کیا کہ نماز میںسستی ہوجاتی ہے اور میرے ہم مجلسوں نے اس پر اعتراض کیاہے او ران کے اعتراض نے مجھے بہت کچھ متاثر کیاہے اس لیے حضور کوئی علاج اس سستی کا بتائیں ) فرمایا :۔ جب تک خوف الٰہی دل میں طاری نہ ہو گناہدور نہیں ہوسکتا اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جہاںتک موقعہ ملے ملاقات کرتے رہوہم تو اپنی جماعت کو قبر کے سر پر رکھنا چاہتے کہ قبر ہر وقت مد نظر ہولیکن جو اس وقت نہیں سمجھے گا وہ آخر خدا تعالیٰ کے قہر ی نشان سے سمجھے گا ۔ طاعون کا نشان اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ آخری دنوں مین آسمان سے ایک وبانازل کرے گا او ر اس سے