سنتے ہیں ‘‘ ’’منجملہ اسلام کی بہتری کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بڑے آدمی دیندار ہو جائیں اور یہ وقت پر مقدر ہے ‘‘ ریلوے مسیح موعود کی نشانی ہَے فرمایا : حقیقت میں یہ ریلوے مسیح موعود کا ایک نشان ہے قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے واذاالعشار عطلت ( التکویر : ۵) فرمایا : دین داری تقویٰ کے ساتھ ہوتی ہے یہ لوگ اگر غور کریں تو صاف معلوم ہوتاہے کہ لیترکن القلاص میں ریل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگر اس سے ریل مراد نہیںتو پھر ان کا فرض ہے کہوہ حادثہ بتائیں کہ جس سے اونٹ ترک کئے جاویں گے پہلی کتابوں میں بھی اشارہ ہے کے اس وقت آمدرفت سہل ہوجائے گئی۔ اصل تو یہ ہے کہ اس قدر نشانات طورے ہوچکے ہیں کہ یہ لوگ اس میدان سے بھاگ ہی گئے ہیں جیسے کسوف خسوف رمضان میں کیا اس طریق پر نہیں ہو اجیسا کہ مہدی کی آیا ت کے لیے مقرر تھا؟ اسی طرح ابتدائے آفرنیشسے ایسی سواری بھی نکلی ہے ۔ فرمایا : علامات دلالت کرتی ہیں کہ مسیح موعود پیداہوگیا ہے اگر یہ لوگ ہم کو نہیں مانتے تو پھر کسی اور کی تلاش کریں او ربتائیں کہ کون ہے کیونکہ جو نشانات اس کے مقرر کئے تھیوہ تو سب کہ سب پورے ہوگئے ۔ ظہور مہدی ؑ سے متعلق احادیث کا مرتبہ محمد حسین اور صدیق حسن نے لکھا کہ مہدی کی حدیثیں مجروح ہیں مہدی اور مسیح گویا ایک شعر کے دو مصرعے ہیں ۔جب ایک مصرعہ ٹوٹ گیا توپھر دوسرا وزن پورا کرنے کہ لیے کیونکر صحیح ہو سکتاہے ان کے لیے بڑ ی مشکلات ہے عادت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ جب کوئی بات اس کی طرف سے پیداہوتی ہے تو لوگ اس کو تعجب انگیزی ہی سمجھتے ہیں یہودی اپنے خیال میں انتظار ہی کرتے رہے اور آنے والامسیح اور وہ نبی گذربھی گئے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے