جائز نہیں ہوتے ۔اس طرح میرے نزدیک باجے کی بھی حلت ہے ۔ اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں دیکھتے بشر طیکہ نیت میں خلل نہ ہو ۔ نکاحو ں میں بعض وقت جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور وراثت کے مقدمات ہوجاتے ہیں جب اعلان ہوگیاہواہوتا ہیتو ایسے مقدمات میں انفصال سہل اور آسان ہواجاتا ہے اگر نکاح گم صم ہوگیا ہو اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی ہوتو پھر وہ تعلقات بعض اوقات قانوناًناجائز سمجھے جاکر اولاد محرم الارث قرار دے دی جاتی ہے ایسے امور صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہیں کیونکہ ان سے شرع کے قضایافیصل ہوتے ہیں ۔ یہ لڑکے جو پیدا ہوتے رہتے ہیں بعض وقت ان کے عقیقہ پرہم نے دو دو ہزار آدمیوںکو دعوت دی ہے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری غرض اس سے یہی تھی کہ تا اس پیشگوئی کا جو ہر ایک کے پیداہونے سے پہلے کی گئی تھی بخوبی اعلان ہوجاوے ۔
بَد ظنّی
بد ظنی سے حبط اعمال ہو جاتا ہے تذکرۃ الاولیا ء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ میں اپنے آپ کو سب سے بد تر سمجھو ں گا ایک بار وہ دریا پر گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک جوان عو رت ہے اور ایک مرد بھی اس کے ساتھ ہے اور دونوں بڑی خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہاں اس نے دعا کی الٰہی میں اس شخص سے بہتر ہوں کیونکہ اس نے حیا چھو ڑدیا ہے اتنے میں کشتی آئی سات آدمی تھے وہ غرق ہو گئے وہ شخص جس کو اس نے شرابی سمجھا تھا دریا میں کود پڑا اور چھ کو بچا لایا اور ایک باقی رہا تو اس کو مخاطب کر کے کہا کہ تو نے ایسا گمان کیا تھا اب ایک باقی ہے اسے نکال لااس وقت اس نے سمجھا یہ تو مجھے ٹھوکر لگی ہے ۔ آخر اس سے اصل معاملہ پوچھا تو اس نے کہا کہ میں تیرے لئے خدا کا مامور ہوں یہ عورت میری والدہ ہے اور جس کو تو شراب کہتا ہے یہ اس دریا کا پانی ہے اور یہاں میں خدا تعالیٰ کے بٹھائے سے بیٹھاہوں ۔
غرض حسن ظن بڑی عمدہ چیز ہے اس کو ہاتھ نہیں دینا چاہئیے اور خداتعالیٰ کہ فضل او رانعام پر اس کاشکر کرنا کبھی ناجائز نہیں ہوسکتا جب تک محض اس کی رضا ہی مطلوب ہوا اور دنیا کی شیخی اور نمود غرض نہ ہو ۔ ۱؎
۱۵اکتوبر ۱۹۰۲ء ( صبح کی سَیر میں )
فرمایا :
’’دل اللہ کے قابو میں ہے جب تک وہ سمجھانے پر نہ آئے دل کب کھلتاہے اور کان کب