تھی ۔ وہ بیمار ہو اورشدت سے بخار چڑھاہوا تھا یہاں تک کہ اس کی حالت نازک ہوگئی ۔ اس وقت نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں کہا کہ میں نماز پڑھ لوں ج۔ جابھی نماز ہی پڑھتے تھے کہ بچہ فوت ہوگیا ۔ نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے ۔ میں نے کہا ۔ کہ اس کاتو انتقال ہوگیا ہے ۔ اس وقت میں نے دیکھ کہ انہوں نے بڑی شرح صدر کے ساتھ کہا انا للہ واناالیہ رجعون ( البقرۃ : ۱۵۷ ۹ جب تک اس بچّے کابدلہ نہ دے لے ۔ چنانچہ اس کے فوت ہونے کے قریباً چالیس دن بعد محمود پیداہوا ۔اوراس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بچّے پیداہوئے۔ نماز کا مَغز دُعاہَے غرض ظنون فاسدہ والا انسان ناقص الخلقت پیدا ہوتا ہے چونکہ اس کے پاس صرف رسمی امور ہوتے ہیں اس لیے نہ ا س کادین درست ہوتا ہے نہ دنیا ۔ ایسے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز کے مطالب سے ناآشنا ہوتے ہیں اور ہر گز نہیں سمجھتے کے کیا کر رہے ہیں نماز میں تو ٹھونگے مارتے ہیں لیکن نماز کے بعد دعامیںگھنٹہ گھنٹہ گذار دیتے ہیں تعجب کیے بات ہے کہ نماز جواصل دعاکے لیے ہے اور جس کا مغز ہی دعا ہے اس میں کوئی وہ دعا نہیں کرتے ۔نماز کے ارکان بجائے خود دعا کے لئے محرک ہوتے ہیں ۔حرکت میں برکت ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیتھے بیٹھے کوئی مضمون نہیں سوجھتاجب ذرااٹھ کر پھرنے لگتے ہیںتو مضمو ن سوجھ گیا اسی طرح پر سب اعمال کا حال ہے اگر ان کی اصلیت کالحاظ اور مغز کا خیا ل نہ ہوتو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے اسی طرح پر روزہ خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے لیکن اگر حقیقت نہ ہوتو پھر یہ رسم ہے جاتی ہے ۔ خداتعالیٰ کے فضلوں پر خوشی کا اظہار کرنا چاہئیے یقینایاد رکھوکہ جو خدا تعالیٰ کے فضل پر خو ش نہیںہوتاہے او راس کاعملی اظہا ر نہیںکرتاوہ مخلص نہیں ہے میرے خیال میں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل پر سال بھر تک گاتا رہے تو وہ سال بھر ماتم کرنے والوں سے اچھا ہے جو امور قال اللہ اورقال الرسول کے خلاف ہوں یا ان میں شرک یاریا ہو اور ان میں اپنی شیخی دکھائی جاوے وہ امور اثم میں داخل ہیں اور منع ہیں د ف کے ساتھ شادی کاعلان کرنا بھی اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ اگر جھگڑا ہوتو ایسا علان بطور گواہ ہوجاتا ہے ایسا ہی اگر کوئی شخص نسبت اور ناطہ پر شکر وغیرہ اس لیے تقسیم کرتا ہے کہ وہ ناطہ پکا ہو جائے تو گناہ نہیں ۔ لیکن اگر یہ خیال نہ ہو بلکہ اس سے مقصد صرف اپنی شہرت اور شیخی ہو تو پھر یہ