اور جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ کوئی بدعت تو نہیں اور اس سے سرک تو لازم نہیں آتا اگر ان امور میں سے کوئی بات نہ ہو اور فساد ایمان پیدا نہ ہو تو پھر اس کے کرنے میں کوئی ہرج نہیں انماالاعمال بالنیات کا لحاظ رکھ لے۔میں نے بعض مولیوںکی نسبت ایسا بھی سنا ہے کہ صرف ونخووغیرہ علوم کے پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ علوم نہ تھے پیچھے سے نکلے ہیں اور ایسا ہی بعض نے توپ یا بندوق کے ساتھ لرنا بھی گناہ قرار دیا ہے۔ایسے لوگوں کے احمق ہونے میں شک کرنا بھی غلطی ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جیسی تیاری وہ کریں تم بھی ویسی ہی تیاری کرو یہ مسائل دراصل اجتہادی مسائل ہیں اور ان میں نیت کا بہت بڑا دخل ہے غرض ہامرا یہ فعل اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ محض اس کی شکر گزاری کے اظہار کے لئے ہے۔ ہمیشہ حُسنِ ظن ّ سے کام لیناچاہئیے بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ یہاں کوئی کام ہوتا ہے اور جو لوگ حسن ظنی سے کام نہیں کیتے یا اسرار شریعت سے ناواقف ہوتے ہیں ۔ بعض انکو ابتلا آجاتا ہے اور وج کچھ کا کچھ سمجھ لیتے ہیں لبھی ایسا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کہانیاںسنارہے ہیں اگر اس وقت نادان اور نااہل آپ کو دیکھے اور آپ کے اغراض کو مد نظر نہ رکھے تو اس نے ٹھوکر ہی کھانی ہے ۔یا ایک مرتبہ آپؐ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور دوسری بیوی نے آپ کے لیے شوربہ کا پیالہ بھیجا تو حضرت عائشہ ؓ نے اس پیالے کو گراکر پھوڑ دیا اب ایک ناواقف حضرت عائشہ کہ اس فعل پر اعتراضکرنے کی جرأ ت کر تا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دوسر ے افعال پر نظر نہیں کرتا ایسے امور پیش آتے ہیں ۔جو دوسرے علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں ۔ اعتراض سے پہلے انسان کو چاہئیے کہ حسن ظن سے کام لے اور چند روز تک صبر سے دیکھے پھر خود بخودحقیقت کھل جاتی ہے کچھ عرصہ کا ذکر ہے کہ ایک مہمان آئی اور ان دنوں میں کچھ ایسا اتفاق ہو اچند بیبیوں سے نماز ساقط ہو گئیتھی اس نے کہا کہ یہاںکیا آنا کوئی نماز ہی نہیں پڑھتاحالانکہ وہ معذور تھیں اور عند اللہ ان پر کوئی مواخذہ نہ تھا مگر اس نے بغیر دریافت کئے اور سوچے ایسا کہہ دیا ۔ حضرت امّا ں جان کاعظیم نمونہ تزکیہ دل میں ہوتا ہے ۔ بغیر اس کہ کچھ نہیں بنتا ۔ حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھر میں اس قدر التزام نماز کا ہے کہ جب پہلہ بشیر پیداہوا تھا ۔اس کی شکل مبارک سے بہت ملتی