کلید در دوزخ است آں نماز
کہ در چشم مردم گزاری دراز
ریاء الناس کے لئے خواہ کوئی کام بھی کیا جاوے اور اس میں کتنی ہی نیکی ہو وہ بالکل بے سود اور الٹا عذاب کا موجب ہو جاتا ہے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانے کے فقراء خدا تعالیٰ کے لئے عبادت کرنا ظاہر کرتے ہیں مگر دراصل وہ خدا کے لئے نہیں کرتے بلکہ مخلوق کے واسطے کرتے ہیں انہوں نے عجیب عجیب حالات ان لوگوں کے لکھے ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ان کے لباس کے متعلق لکھا ہے کہ اگر میلے رکھیں گے تو عزت میں فرق آئے گا اس لئے امراء میں داخل ہونے کے واسطے یہ تجویز کرتے ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنیں مگر ان کو رنگ لیتے ہیں ایسا ہی اپنی عبادتوں کو ظاہر کرنے کے لئے عجیب عجیب راہیں اختیار کرتے ہیں مثلاً روزہ کے ظاہر کرنے کے واسطے وہ کسی کے ہاں کھانے کے وقت پر پہنچتے ہیں اور وہ کھانے کے لئے اصرار کرتے ہیںتو یہ کہتے ہیں کہ آپ کھائیے میں نہیں کھائوں گا مجھے کچھ عذر ہے اس فقرہ کے یہ معنے ہوتے ہیں مجھے روزہ ہے اس طرح پر حالات ان کے لکھے ہیں پس دنیا کی خاطر اور اپنی عزت اور شہرت کے لئے کوئی کام کرنا خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا موجب نہیں ہوسکتا اس زمانہ میں بھی دنیا کی ایسی ہی حالت ہو رہی ہے ہر ایک ثیز اپنے اعتدال سے گر گئے ہے عبادات اور صدقات سب کچھ ریاکاری یک واسطے ہو رہے ہیں اعمال صالحہ کی جگہ چند رسوم نے لے لی ہے اس لئے رسوم کے توڑنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کوئی فعل یا قول قال اﷲ اور قال الرسول کے خلاف اگر ہو تو اسے توڑا جائے۔جبکہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور ہمارے سب اقوال اور افعال اﷲ تعالیٰ کے نیچے ہونے ضروری ہیں پھر ہم دنیا کی پروا کیوں کریں؟ جو فعل اﷲ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خالف ہو اس کو دور کر دیا جاوے اور چھوڑا جاوے جو حدود الٰہی اور وصایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق ہوں ان پر عمل کیا جاوے کہ احیاء سنت اسی کا نام ہے اور جو امرو وصایا آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے خلاف نہ ہوں یا اﷲ تعالیٰ کے احکام کے خالف نہ ہوں اور نہ ان میں ریا کاری مد نظر ہو بلکہ بطور اظہارشکر اور تحدیث بالنعمۃ ہو تو اس کے لئے کوئی حرج نہیں۔ہمارے علماء سابقہ تو یہاں تک بعض اوقات مبالغہ کرت یہیں کہ میں نے سان ایک مولوی نے ریل کی سواری کے خلاف فتویٰ دیا اور ڈاکخانہ میں خط ڈالنا بھی وہ گناہ بتا تاتھا اب یہاں تک جن لوگوں کے حالات پہنچ جاویں ان کے پاگل ہونے یا نیم پاگل ہونے میں کیا شک باقی رہا؟ یہ حماقت ہے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ میرا فلاں فعل اﷲ تعالیٰ کے فرمودہ کے موافق ہے یا خلاف ہے