اس وقت محبوب ہے کیونکہ اس وقت اسلام کی شان اور شوکت کا اظہار اور فریق مخالف پر ایک رعب پیدا ہوتا ہے پس ایسی بہت سی مثالیں اور نظیریں ملیں گی جن سے آخر کار جا کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انماالاعمال بالنیات بالکل صحیح ہے۔
اسی طرح پر میں ہمیشہ اسی فکر میں رہتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں کہ کوئی راہ ایسی نکلے جس سے اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا اظہار ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان پیدا ہو۔ایسا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے اور نیکیوں کے قریب کرتا ہے۔
آمین کی تقریب
میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے مجھ پر لا انتہا فضل اور انعام ہیں ان کی تحدیث مجھ پر فرض ہے پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اﷲ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے ایساہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے یہ لڑکے چونکہ اﷲ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کا زندہنمونہ ہیں اس لئے میں اﷲ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں کیونکہ یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ارو قرآن کریم کی حقانیت اور خدو خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں اس وقت جب انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیااس تقریب پر میں چند دعائیہ شعر جن میں اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہو لکھ دوں میں جیسا کہ ابھی کہا ہے کہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا اور میں نے مناسب جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کر دوں۔؎ٰ
ہر کام میں نیت تقویٰ کی ہونی چاہئے
پس یہ میری نیت اور غرض تھی۔چناچہ جب میں نے اس کو سروع کیا اور یہ مصرعہ لکھا ؎
ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے
تو دوسرا مصرعہ الہام ہوا ؎
اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے
جس سے یہ معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ بھی میرے اس فعل سے راضی ہوا ہے قرآن شریف تقویٰ ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے اگر انسان تقویٰ اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے سعدی کہتا ہے