اسی طرح ایاک نستعین میں ان لوگوں کا رد ہے جو دعا اور اس کی قبولیت منکر ہیں۔ اور
اہدنا الصراط المستقیم صرا ط الذین انعمت علیہم
میں آج کل کے مولویوں کا رد ہے جو یہ مانتے ہیں کہ سب روحانی فیوض اور برکات ختم ہو گئے ہیں اور کسی کی محنت اور مجاہدہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا اور ان برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں ملتا جو پہلے منعم علیہ گروہ کو ملتا ہے۔
یہ لوگ قرآن شریف کے فیوض کو ا ب گو یا بے اثر مانتے ہیں اور حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی کے قائل نہیں کیونکہ اب ایک بھی آدمی اس قسم کا نہیںہو سکتا جو منعم علیہ گروہ کے رنگ میں رنگین ہو سکے تو پھر اس دعاکے مانگنے کا فائدہ کیا ہوا مگر نہیں یہ ان لوگوں کی غلطی اور سخت غلطی ہے جو ایسا یقین کر بیٹھے ہیں خدا تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا دروازہ اب بھی اسی طرح کھلا ہے لیکن وہ سارے فیوض اور برکات محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ملتے ہیں اور اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر یہ دعویٰ کرے کہ وہ روحانی برکات اور سماوی انوار سے حصہ پاتا ہے توا یسا شخص جھوٹا اور کذاب ہے۔
سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی بعض عبارتیں ایسی تھیں جو قرآن کے رنگ کی تھیں مولوی عبدالحی جنہوں نے اتباع سنت کیا ہے اور مجھے ان سے بہت محبت ہے ان کا مذہب توحید کا تھا۔وہ بدعات اور محدثات سے جدا رہتے تھے۔
وہ ان عبارتوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کے موافق ہیں توا س کا کیا جواب دیں؟ تو فرماتے ہیں کہ ولیوںکے کرامات اور خوارق انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات کی ہی طرح ہوتے ہیں۔اس لئے یہ قرآن ہی کا معجزہ ہے اصل یہی ہے کہ کامل اتباع سنت کی بعد خوارق اور معجزات کا دروازہ بند ہو گیا ہے تو پھر معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بھاری ہتک ہو گی ۔
یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فرمایا انا اعطیناک الکوثر( الکوثر:۱) یہ اس وقت کی بات ہے کہ ایک کافر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں ہے معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ان شانئک ھوالأبتر(الکوثر:۳) تیرا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔
روحانی طور پر لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور آپ کے علوم و برکات کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے اس آیت کو ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسو ل اللہ و خاتم النببین(الاحزاب:۴۱) کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد بھی نہیں تھی تو پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرتے ہیں جو آپ کے اعداء کے لئے ہے ۔ اور