نواب محمد علی خان صاحب کے ایک سوال کے جواب میں تقریر
جب حضرت صاحبزمیںتقریر ادہ بشیر احمد ۔ شریف احمداور مبارکہ بیگم کی آمین ہوئی اس وقت جیسا کہ حضرت حجۃاﷲ کا معمول ہے کہ خدا تعالیٰ کے انعام و عطا یا پر شکر یہ کے طور پر صدقات دیتے ہیں آپ نے شکریہ کے طور پر ایک دعوت دی اس پر حضرت نواب صاحب قبلہ نے ایک سوال کیا کہ حضور یہ جو آمین ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟
اس کے جواب میں حصرت حجۃاﷲ علیہ الصلوۃوالسلام نے جو کچھ فرمایا وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔؎ٰ (ایڈیٹر الحکم)
شُبہ کا ازالہ کروانا صفائی قلب کا نشان ہے
فرمایا جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جواے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوئوں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجہ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان دے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں جس سے وہ اندر ہی نشونما پاتا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک و شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے ایسی کمزوری نفاق تک پہنچادیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوثھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کرلے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر سوال کرنا مناسب نہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے
لا تسئلو اعن اشیاء (المائدہ: ۱۰۲)
اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کرکے دوسروں کی برائیاں نکالتا رہے یہ دونو طریق برے ہیں لیکن اگر کوئی امر اہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کرکے پوچھ لینا چاہئے یہ ایسی بات ہے کہ اگر کوئی شخص خراب غذا کھالے اور وہ پیت میں جا کر خرابی پیدا کرے اور اس سے جی متلانے لگے تو چاہئے کہ فوراً قے کرکے اس کو نکال دیا جائے لیکن اگر وہ اس کو نکالتا نہیں تو پھر وہ آلات ہضم میں فتور پیدا کرکے صحت کو بگاڑدے گی جیسے ایسی غذا کو فوراً نکالنا چاہئے اسی طرح جو بات دل میں کھٹکے اسے جلد باہر نکال دو۔
غرض میں اس کو آپ کی سعادت کی نسانی سمجھتا ہوں کہ آپ جو بات سمجھ میں نہ آوے اسے