مخالفوں کی حالت پر نظر کرتا ہوں کہ جن امرو کو بطور نشان پیش کیا کرتے تھے اب وہ جب پورے ہو گئے تو ان کی صحت پر اعتراض کرنے لگے مثلاً کسوف خسوف والی پیشگوئی کو اب کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نئہیں مگر ان سے پوچھے کہ جس کو خد اتعالیٰ نے صحیح ثابت کر دیا۔کیا اب وہ ان کے کہنے سے جھوٹی ہو جائے گی؟افسوس تو یہ ہے کہ اتنا کہتے ہوئے ان کو شرم نہیں ئتی کہ اس سے ہم مسیح موعود کی تکذیب نہیں کرتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر رہے ہیں میری تصدیق اور تائید کے لئے ایک کسوف خسوف ہی نہیں ہزار ہا دلائل اور شواہد ہیں اور اگر ایک نہ بھی ہو تو کچھ بگڑتا نہیں۔مگر اس سے تو یہ پایا جائے گا کہ یہ پیشگوئی غلط ہوئی۔افسوس یہ لوگ میری مخالفت میںسید الصادقین کی پیشگوئی کو باطل کرنا چاہتے ہیں ہم ا سپیشگوئی کو بڑے زور سے پیش کرتے ہیں یہ ہمارے آقا کی صداقت کا نشان ہے۔
پس حدیث جس کو تم ظن کی سیاہی سے لکھتے تھے واکعہ نے اس کی صداقت کو یقین تک پہنچا دیا اب اس سے انکار کرنا بے ایمانی اور لعنت ہے۔موضوع احادیث میں کیا محدثین یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے چور پکڑ لیا ہے نہیں بلکہ یہی کہیں گے کہ کسی کا حافظہ درست نہیں یا راست باز ہونے میں کلام ہے مگر محدثین نے یہ اصول تسلیم کر لیا ہے کہ ایک حدیث اگر ضعیف بھی ہو مگر اس کی پیشگوئی پوری ہو جاوے تو وہ صحیح ہوتی ہے پھر ا سمعیار پر کیونکر کوئی یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔
پس یاد رکھو کہ آنے والا یا تو نصوص صریحہ س یپرکھا جاتا ہے‘ وہ ا سکی تائید کرتی ہیں اور پھر عقل چونکہ بدوں نظیر نہیں مان سکتی عقلی نظائر اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور سب سے برھ کر خدا تعالیٰ کی تائیدیں ا سکے ساتھ ہوتی ہیں اگر کسی کو کوئی شک وشبہ ہو تو وہ میرے سامنے آئے اور ان طریقوں سے جو منہاج نبوت پر ہیں میری سچائی کا ثبوت مجھ سے لے۔میں اگر جھوٹا ہوں تو بھاگ جائون گا۔مگر نہیں۔اﷲ تعالیٰ نے انیس برس پہلے مجھے کہاینصرک اﷲ فی مواطن
پس جس طرح نبیوں یا رسولوں کو پرکھا گیا‘ مجھے پرکھ لو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس معیار پر مجھے صادق پاجو گے۔یہ باتیں میں نے مختصر طور پر کہی ہیں ان پر غور کرو اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو وہ قادر ہے کوئی راہ کھول دے گا اس کی تائید اور نصرت صادق ہی کو ملتی ہے۔فقط؎ٰ