پوچھ لیتے ہیں اور اس کو اعتراض بن جانے کا موقع نہیں دیتے۔
بخاری کی پہلی حدیث یہ ہے انماالاعمال بالنیات اعمال نیت ہی پر منحصر ہیں صحت نیت کے ساتھ کوئی جرم بھی جرم نہیں رہتا۔قانون کو دیکھو اس میں بھی نیت کو ضروری سمجھا ہے۔مثلاً ایک باپ اگر اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہو کہ تو مدرسہ جا کر پڑھ اور اتفاق سے کسی ایسی جگہ چوٹ لگ جاوے کہ بچہ مرجاوے تو دیکھا جاوے گا کہ یہ قتل عمد مستلزم سزا نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اس کی نیت بچے کو قتل کرنے کی نہ تھی تو ہر ایک کام میں نیت پر بہت بڑا انحصار ہے اسلام میں یہ مسئلہ بہت سے امور کو حل کر دیتا ہے۔
پس اگر نیک نیتی کے ساتھ محض خدا کے لئے کوئی کام کیا جاوے اور دنیا داروں کی نظر میں وہ کچھ ہی ہو تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔
تحدیثِ نعمت کے آداب
یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں دعا کا طالب رہے اور دوسرے
اما بنعمۃربک فحدث (الضحیٰ : ۱۲)
پر عمل کرے۔خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی ثاہئے اس سے خدا تعاسلیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اس کی اطاعت اورفرماں برداری کیلئے جوش پیدا ہوتا ہے تحدیث کے یہی معنے نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتا رہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے مثلاً ایک سخص کو اﷲ تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ وہ عمدہ کپڑے پہن سکتا ہے لیکن وہ ہمیشہ میلے کچیلے کپڑے پہنتا ہے اس خیال سے کہ وہ واجب الرحم سمجھا جاوے یا اس کی آسودہ حالی کا حال کسی پر ظاہر نہ ہو ایسا شخص گناہ کرتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم کو چھپانا چاہتا ہے اور نفاق س یکام لیتا ہے دھوکہ دیتا ہے اور مغالطہ میں ڈالنا چاہتا ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب مشترک تھا۔آپ کو جو ملتا تھا پہن لیتے اعراض نہ کرتے تھے جو کپڑا پیش کیا جاوے اسے قبول کر لیتے تھے لیکن آپ کے بعد بعض لوگوں نے اسی میں تواضع دیکھی کہ رہبانیت کی جزوملادی۔بعض درویشوں کو دیکھا گیا ہے کہ گوشت میں خاک ڈال کر کھاتے تھے۔ایک درویش کے پاس کوئی شخص گیا اس نے کہا کہ اس کو کھانا کھلا دو اس شخص نے اصرار کیا کہ میں تو آپ کے ساتھ ہی کھائوں گا آخر جب وہ اس درویش کے ساتھ کھانے بیٹھا تو اس کے لئے نیم کے گولے تیار کرکے آگے رکھے گئے اس قسم کے امور بعض لوگ اختیار کرتے ہیں اور غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اپنے باکمال ہونے کا یقین دلائیں مگر اسلام ایسی باتوں کو کمال میں داخل نہیں کرتا سلام کا کمال تو تقویٰ ہے جس سے ولایت