موسیٰ تسلیم کیا ہے اس مماثلت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ جس طرح پر موسوی خلفاء کا سللسہ قائم ہوا۔آنحصرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایک سلسلہ خلافت قائم ہو۔اگر اور کوئی بھی دلیل اس کے لئے نہ ہو تب بھی یہ مماثلت بالطبع یہ چاہتی ہے کہ ایک سلسلہ خلافاء کا ہو۔ دوم۔آیت استخلاف میں اﷲ تعالیٰ نے صاف طور پر ایک سلسلہ خلافت قائم کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس سللسہ کو پہلے سلسلہ خلافت کے ہمرنگ قرار دیا جیسا کہ فرمایا کما استخلف الذین من قبلھم (النور : ۵۶) اب اس وعدہ استخلاف کے موافق اور اس مماثلت کے لحاظ سے یہ ضروری تھا کہ جیسے موسوی سلسلہ خلافت کا خاتم الخلفاء مسیح تھا ضرور ہے کہ سلسلہ محمدیہ کے خلفاء کا خاتم بھی ایک مسیح ہی ہو۔ سوم۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا امامکم منکم تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔ چہارم۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد تجدید دین کے لئے بھیجا جاتا ہے اب اس صدی کا مجدد ہونا ضروری تھا اور مجدد کا جو کام ہوتا ہے وہ اصلاح فسادات موجودہ ہوتا ہے پس جو فساد اور فتنہ اس وقت سب سے بڑھ کر ہے وہ عیسائی فتنہ ہے ا سلئے ضروری ہے کہ اس صدی کا جو مجدد ہو وہ کاسرالصلیب ہو۔جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے۔ پنجم۔موسوی خلافت کی مماثلت کے لحاظ س یبھی خاتم الخلفاء سلسلہ محمدیہ کا چودھویں ہی صدی میں ہونا ضروری ہے کیونکہ موسیٰ ؑ کے بعد چودھویں صدی میں مسیح ؑآئے تھے۔ ششم۔جو علامات مسیح موعود مقرر تھیں ان میں سی بہت سی پوری ہو چکیں جیسے کسوف خسوف کا رمضان میں ہونا جو دو مرتبہ ہو چکا۔حج کا بند ہونا۔ذوالسنین ستارہ کا نکلنا۔طاعون کا پھوٹنا۔ریلوں کا اجرا۔اونٹوں کا بیکار ہونا وغیرہ۔ ہفتم۔سورہ فاتحہ کی دعا سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا اسی امت میں سے ہوگا غرض ایک دو نہیں۔صدہا دلائل ا س امر پر ہیں کہ آنے والا اسی امت میں سے آنا چاہیئے اور اس کا یہی وقت ہے اب خدا تعالیٰ کے الہام اور وحی سے میں کہتا ہوں وہ ہجو آنے والا تھا وہ میں ہوں۔قدیم سے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر جو طریق ثبوت کا رکھا ہوا ہے وہ مجھ سے جس کا جی چاہے لے لے۔ نشاناتِ صداقت جو نشانات میری تائید میں ظاہر ہوئے ہیں ان کو دیکھ لو۔مجھے افسوس ہوتا ہے جب ان