نے اپنی سنت کو بھی قرآن کے ساتھ رکھا اور اصل یہی ہے کہ نبی دو ہی باتیں لے کر آتے ہیں۔کتاب اور سنت۔حدیث ان دونوں سے الگ شیئے ہے اور یہ دونو حدیث کی محتاج نہیں ہیں ہاں یہ ہم مانتے ہیں کہ ادنیٰ درجہ کی حدیث پر بھی عمل کرلینا چاہیے خواہ وہ محدثین کے نزدیک موضوع ہی ہو۔اگر قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو۔ہم تو یہاں تک حدیث کی عزت کرتے ہیں لیکن اس کو قرآن پر قاضی اور حکم نہیں بنا سکتے۔آپؐ نے نہیں فرما یا کہ میںتم میں حدیث چھوڑتا ہوں بلکہ فرمایا کتاب اﷲ چھوڑتا ہوں حضرت عمر ؓ نے بھی یہی کہا حسبنا کتاب اﷲ انہوں نے نہیں کہا کہ حدیث کافی ہے؟ کتاب اﷲ کا فیصلہ اب کتاب اﷲ کو کھول کر دیکھ لو وہ فیصلہ کرتی ہے پہلی ہی سورۃ کو پڑھو جو سورۃ فاتحہ ہے جس کے بغیر نما زبھی نہیں ہوسکتی۔دیکھو ا سمیں کیا تعلیم دی ہے اھدنا الصراط المستقیم۔صراط الذین انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم والاالضالین (الفاتحہ : ۶‘۷) اب صاف ظاہر ہے کہ اس دعا میں مغضوب اور ضالین کی راہ سے بچنے کی دعا ہے مغضوب سے بالاتفاق یہودی مراد ہیں اور ضالین سے عیسائی۔اگر اس امت میں یہ فتنہ اور فساد پیدا نہ ہونے والا تھا۔تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا غرض تھی؟ سب سے بڑا فتنہ تو الدجال کا تھا مگر یہ نہیں کہا ولاالدجال کیا خدا تعالیٰ کو ا سفتنہ کی خبر نہ تھی؟اصل یہ ہے کہ یہ دعا بڑی پیشگوئی اپنے اندر رکھتی ہے۔ایک وقت امت پر ایسا آنیوالا تھا کہ یہودیت کا رنگ اس مین آجاوے گا۔ارو یہودی وہ قوم تھی جس نے حضرت مسیح ؑ کا انکار کیا تھا پس یہاں جو فرمایا کہ یہودیوں سے بچنے کی دعا کرو اس کا یہی مطلب ہے کہ تم بھی یہودی نہ بن جانا یعنی مسیح موعود کا انکار نہ کر بیٹھنا اور ضالین یعنی نصاریٰ کی راہ سے بچنے کی دعا جو تعلیم کی تو اس سے معلوم ہوا کہ ا سوقت صلیبی فتنہ خطرناک ہو گا اور یہی سب فتنوں کی جڑ اور ماں ہوگا دجال کا فتنہ اس سے الگ نہ ہوگا ورنہ اگر الگ ہوتا تو ضرور تھا کہ ا سکا بھی نام لیا جاتا اب سارے گرجوں میں جاکر دیکھو کہ کیا یہ فتنہ خطرناک ہے یا نہیں؟ اسی طرح قرآن شریف کو غور س یپڑھو اور سوچو کہ کیا اس نے یہ وعدہ نہیں کی انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : ۱۰) اور پھر آیت استخلاف میں ایک خاتم الخلافاء کا وعدہ دیا گیا ان سب امور کو یکجائی نظر سے اس طرح پر دیکھو! اول۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف نے توریت کی پیشگوئی کے موافق مثیل