پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنے کا نتیجہ
جو لوگ پیسگوئیوں کی حقیقت کو نہ سمجھ کر مجاز اور استعارہ کو ظاہر پر حمل کرنا چاہتے ہیں آخر ان کو انکار کرنا پڑتا ہے جیسے یہودیوں کو یہی مصیبت پیش آئی اور اب عیسائیوں کو پیش آرہی ہے اور اس کی آمد ثانی کے متعلق اکثر یہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ کلیسیاہی سے مراد تھی سارے نشانات عام لوگوں کے خیال کے موافق کبھی پورے نہیں ہوا کرتے ہیں تو پھر انبیاء کے وقت اختلاف اور انکار کیوں ہو۔یہودیوں سے پوچھو کہ کیا وہ یہ مانتے ہیں کہ مسیح کے آنے کے وقت سارے نشانات پورے ہو چکے تھے؟ نہیں یاد رکھو قانون قدرت اور سنت اﷲ اس معاملہ میں یہی ہے جو میں پیش کرتا ہوں
ولن تجد لسنۃ اﷲ تبدیلا (الاحزاب : ۶۳)
انسانی خیالات انسانی تاویلات اور قیاسات بالکل صحیح اور قطعی اور یقینی نہیں ہوسکتے ان میں غلطی کا احتمال ہے ایک امر کے واقع ہونے سے پہلے جو رائے قائم کی جائے۔اس پر قطعیت کا حکم نہیں لگاسکتے ۔لیکن جب وقت آتا ہے تو سارے پردے کھل جاتے ہیں یہی وجہ تھی کہ آنے والے کا نام حکم رکھا گیا جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس وقت اختلاف عام ہوگا ت؛ ہی تو اس کا نام حکم رکھا گیا پس سچی بات وہی ہوسکتی ہے جو حکم کے منہ سے نکلے۔
نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ وہ قرآن کی طرف توجہ کرے گا کیونکہ حدیث کو تو لوگوں کا ہاتھ لگا ہوا ہے مگر قرآن شریف خد اتعالیٰ کا لاتبدیل کلام ہے جس پر کسی انسانی ہاتھ نے کوئی کام نہیں کیا اب خدا تعالیٰ کا کالام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جو پہلا اور ابدی معجزہ تھا اس کو پیش کیا جاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں اقوال پیش کئے جاتے ہیں کیا یہ تعجب اور افسوس کی بات نہیں؟
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ خدا کے فضل سے سمجھدار اور فہیم معلوم ہوتے ہیں کیا حدیث کا وہ مرتبہ ہو سکتا ہے جو قرآن شریف کا ہے؟ اگر حدیث کا وہی مرتبہ ہے جو قرآن شریف کا ہے تو پھر نعوذباﷲ ماننا پڑے گا کہ آپؐ نے اپنا فرض ادا نہ کیا کیونکہ قرآن شریف کا اہتمام تو آپ نے کیا مگر حدیث کا کوئی اہتمام نہ ہوا اور نہ آپ نے اپنے سامنے کبھی حدیث کو لکھوایا ۔کیا کوئی فرض رسالت ادا نہیں کیا یہ مسلمان کا کام تو ہو نہیں سکتا بلکہ بڑے بے دین اور ملحد کا کام ہو گا پھر سوچ کر دیکھو کہ کیا حدیث کو آپ نے اپنے سامنے مرتب کروایا ۔یا قرآن شریف کو؟صاف ظاہر ہے کہ قرآن شریف ہی کو آپ نے اپنے بعد چھوڑا کیونکہ تعلیم قرآن ہی تھا ہاں یہ سچ ہے کہ آپ