اور تجویزوں س کچھ نہیں بنتا اور نہ میں اپنی تصدیق خیالی باتوں س یکرتا ہوں میں اپنے دعویٰ کو منہاج نبوت کے معیار پر پیش کرتا ہوں پھر کیا وجہ ہے کہ اسی اصول پر اس کی سچائی کی آزمائش نہ کی جاوے۔
جو دل کھول کر میری باتیں سنیں گے میں یقین رکھتا ہوں کہ فائدہ اٹھاویں گے اور مان لیں گے لیکن جو دل میں بخل اور کینہ رکھتے ہیں ان کو میری باتیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی ان کو تو احوَل جیسی مثال ہے جو ایک کے دو دیکھتا ہے اس کو خواہ کسی قدر دلائل دئیے جائیں کہ دو نہیں ایک ہی ہے وہ تسلیم ہی نہیں کرے گا کہتے ہیں کہ ایک احول خدمت گار تھا آقا نے کہا کہ اندر سے آئینہ لے آئو وہ گیا اور واپس آکر کہا کہ اندر تو دو آئینے پڑے ہیں کونسا لے آئوں آقا نے کہا کہ ایک ہی ہے دو نہیں ا!حوَل نے کہا تو کیا میں جھوتا ہوں؟ آقا نے کہا کہ اچھا ایک کو توڑدے جب توڑا گیا تو اسے معلوم ہوا کہ درحقیقت میری غلطی تھی مگر ان احولوں کا جو میرے مقابل ہیں کیا جواب دوں؟؎ٰ
غرض ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بار باراگر کچھ پیش کرتے ہیں تو احادیث کا ذخیرہ جس کو خود یہ ظن کے درجہ سے آگے نہیں بڑھاتے۔ان کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ ان کے رطب و یا بس امور پر لوگ ہنسی کریں گے۔
یہ ہر ایک طالب حق کا حق ہے کہ وہ ہم سے ہمارے دعویٰ کا ثبوت مانگے۔اس کے لئے ہم و ہی پیش کرتے ہیںجو نبیوں نے پیش کیا۔نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ‘عقلی دلائل یعنی موجودہ ضرورتیں جو مصلح کے لئے مستدعی ہیں۔پھر وہ نشانات جو خد انے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے میں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے۔اس میں دیڑھ سو کے قریب نشانات دئیے ہیں۔جن کے گواہ ایک نوع سے کروڑوں انسان ہیں۔بیہودہ باتیں پیش کرنا سعاد تمند کا کام نہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا تھا کہ وہ حکم ہو کر آئے گا۔اس کا فیصلہ منظور کرو۔جن لوگوں کے دل میں شرارت ہوتی ہے۔وہ چونکہ ماننا نہیں چاہتے ہیں۔اس لئے بیہودہ حجتیں اور اعتراض پیش کرتے رہتے ہیں۔مگر وہ یادرکھیں کہ آخر خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا۔
میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میں افترا کرتا۔تو وہ مجھے فیالفور ہلاک کر دیتا۔مگر میرا سارا کاروبار اسکا اپنا کاروبار ہے۔اور میں اسی کی طرح سے آیا ہوں۔میری تکذیب اس کی تکذیب ہے۔اس لئے وہ خود میری سچائی ظاہر کردے گا۔