اس لئے احادیث کو یہ لوگ جب مختلط کرنے لگیں تو اس امر کو کبھی بھولنا نہ ثاہئے کہ قرآن اور سنت سے اس کو الگ کر لیا جاوے ہمارے صلع میں حافط ہدایت علی صاحب ایک عہدہ دار تھے مجھے اکثر ان س یملنے کا تفاق ہوتا تھا ایک بار انہوں نے کہا کہ میں ان کتابوں کو جن میں مسیح اور مہدی کے آنے کا ذکر ہے دیکھ رہا تھا ۔ان میں ہزارون نشانیاں قائم کر رکھی ہیں چونکہ یہ ساری نشانیاں تو پوری ہونے سے رہیں اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ اس وقت جھگڑا ہی پڑے گا یہ لوگ اس وقت ماننے سے رہے جب تک وہ ساے نسان پورے نہ ہو لیں اور وہ نشان یک دفعہ پورے ہونے سے رہے حقیقت میں ان کی فراست صحیح نکلی اس وقت وہی ہوا انکار ہی کیا گیا۔ پیشگوئیوں میں مجاز اور استعارات کا استعمال اصل بات یہی ہے جس کو میں نے بارہا بیان کیا ہے کہ پیشگوئیوں کا بہت بڑا حصہ مجازات اور استعارات کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ ظاہری رنگ میں بھی پورا ہو جاتا ہے یہی ہمیشہ سے قانون چلا آیا ہے ا س سے تو ہم انکار نہین کر سکتے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔اگر ساری حدیثیں پوری ہونی ہیں یعنی جو سنیوں کی ہیں وہ بھی اور جو شیعوں کی ہیں وہ بھی ‘ علیٰ ہذالقیاس تمام فرقوں کی تو یقینا یاد رکھو کہ پھر نہ کبھی مسیح ہی آئے گا اور نہ مہدی۔ دیکھو میری ضرورت سے زیادہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت تھی جب آپ تشریف لائے۔اب بتائو کہ کیا اس وقت سب نے آپ کو تسلیم کر لیا؟ اور کیا وہ سارے نشانات جو توریت یا انجیل میں آپ کے لئے رکھے گئے تھے پورے ہو گئے تھے؟ خدا کے واسطے سوچو جواب دو۔اگر وہ ساری روائتیں جو ان میں چلی آتی تھیں اور وہ ساری نسانیاں جو ان کی کتابوں میں پائی جاتی تھیں‘ پوری ہوگئی تھیں پھر یہودیوں کو کیا ہو گیا تھا جو انہوں نے انکار کر دیا کبھی ساری نشانیاں پوری نہیں ہوتیں کیونکہ ایسی بہت سی ہوتی ہیں جو خود تجویز کر لی جاتی ہیں اور بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو کچھ اور مطلب اور مفہوم رکھتی ہیں جب سب راستبازوں کے وقت ان کا انکار کیا گیا اور یہی عذر پیش کیا گیا کہ نشانات پورے نہیں ہوئے تو اس وقت اگر انکار کیا گیا تو اسی سنت پر انہوں نے قدم مارا ہے میں کسی کی زبان انکار تو بند نہیں کر سکتا مگر میں یہ کہتا ہوں کہ وہ میرے عذرات کو سن کر جواب دیں یونہی باتیں بنابا تو طریق تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس سلسلہ کو منہاج نبوت پر آزمائیں منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو آزمائیں اور پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے خیالی اصولوں