کے پرثمرات نتائج مترتب کرتا ہے اگر انسان کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ اس کی محنت اور کوشش کوئی پھل لاوے گی تو پھر وہ سست اور نکما ہو جاوے گا۔ یہ صفت انسان کی امیدوں کو وسیع کرتی او رنیکیوں کے کرنے کی طرف جوش سے لے جاتی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ رحیم قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ اس وقت کہلاتا ہے جب کہ لوگوں کی دعا، تضرع ، او ر اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلائوں اور تضییع اعمال سے سے ان کو محفوظ رکھتا ہے رحمانیت تو بالکل عام تھی لیکن رحیمیت خاص انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری مخلوق میں دعا تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ اور قوت نہیں یہ انسان ہی کو ملا ہے۔ رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے کہ رحمانیت دعا کو نہیں چاہتی مگر رحیمیت دعا کو چاہتی ہے یہ انسان کے لئے ا یک خلعت خاصہ ہے اور اگر انسان انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے یہ صفت بھی تمام مذاہب باطلہ کے رد کے لئے کافی ہے کیونکہ بعض مذاہب اباحت کی طرف مائل ہیں او ر وہ مانتے ہیں کہ دنیا میں ترقیات نہیں ہوتی ہیں آریہ جبکہ اس صفت کے فیضان سے منکر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کب قائل ہو سکتاہے سید احمد خان مرحوم نے بھی دعا کا انکار کیا ہے اور اس طرح پر وہ فیض جو دعا کے ذریعہ انسان کو ملتا ہے وہ اس سے محروم رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت مالک یوم الدین بیان کی ہے ۔جو لوگ قیامت کے منکر ہیں اس میں ان کا رد موجود ہے اسکی تفصیل قرآن میں بہت جگہ آئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اس صفت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ کامیابی کی راہ پیدا ہوتی ہے اور ایک حق ہوتا ہے مگر مالکیت یو م الدین وہ حق اور ثمرہ عطا کرتی ہے ۔ اور فقرہ ایاک نعبد تمام باطل معبودوں کی تردید کرتا ہے اور مشرکین کا رد اس میں موجودہے کیونکہ پہلے اللہ تعالے کی صفات کاملہ کو بیان فرمایا ہے اس سے مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ایاک نعبد( الفاتحہ:۵) یعنی صفات کاملہ والے خدا جو رب العالمین، رحمن، رحیم ، مالک یوم الدین ہے ،تیری ہی عبادت ہم کرتے ہیں ۔ یہ ہر چہار صفات جوا م الصفات کہلاتی ہیں معبودان باطلہ میں کہاں پائی جاتی ہیں جو لوگ پتھروں یا درختوں یا حیوانات اور دوسری چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ان میں ان صفات کو ثابت نہیں کر سکتے۔