تیسرے درجہ پر ہیں اور بالاتفاق مانی ہوئی بات یہ ہے کہ وہ ظن کے لئے مفید ہیں ان الظن لا یغنی من الحق شیئا (النجم : ۲۹) اصل میں تین چیزیں ہیں قرآن سنت اور احادیث۔قرآن خدا تعالیٰ کی پاک وحی ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور سنت وہ اسوہ حسنہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وحی کے موافق قائم کر کے دکھایا قرآن اور سنت یہ دونو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام تھے کہ ان کو پہنچادیا جاوے۔اور یہی وجہ ہے کہ جب تک احادیث جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک بھی شعائر اسلام کی بجا آوری برابر ہوتی رہی ہے۔اب دھوکا یہ لگا ہے کہ یہ لوگ احادیث کو اور سنت کو ایک کر دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک چیز نہیں ہیں۔پس احادیث کو جب تک قرآن اور سنت کے معیار پر پرکھ نہ لیں ہم کسی درجہ پر رکھ نہیں سکتے۔لیکن یہ ہمارا مذہب ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ حدیث بھی جو اصول حدیث کی رو سے کیسی ہی کمزور او رضعیف ہو لیکن قرآن یا سنت کے خلاف نہیں تو وہ واجب العمل ہے ۔مگر ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ نہیں محدثین کے اصول تنقید کی رو سے جو صحیح ثابت ہووہ خود قرآن اور سنت کی کیسی ہی مخالف ہو اس کو مان لینا چاہئے۔اب عقلمند غور کریں۔اور خد اکا خوف دل میں رکھ کر فکر کریں کہ حق کس کے ساتھ ہے‘ ان کے یا میرے۔میں خدا کے کلام او راس کے پاک رسول کے عمل کو مقدم کرتا ہوں اور یہ ان لوگوں کی باتوں اور خیالی اصولوں کو مقدم کرتے ہیں جنہوں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ یہ اصول تنقید احادیث کے ہم نے خدا کی وحی اور الہام سے قائم کئے ہیں۔ اگر یہی بات ہے کہ احادیث کے لئے قرآن اور سنت کے علاوہ کوئی اور معیار ہے جو محض اپنی دانش اور عقل سے قائم کیا گیا ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ سنیوں کی پیش کردہ احادیث یا شیعوں کی پیش کردہ احادیث صحیح نہ مانی جاویں۔کیوں ایک فریق دوسرے کو رد کرتا ہے۔اس کا جواب ہمیں کوئی کچھ نہیں دیتا۔ان ساری باتوں سے بڑھ کر اور ایک بات ہے کہ مولوی محمد حسین ضاحب نے اپنے رسالہ اشاعت السنتہ میں یہ اقرار کیا ہے کہ اہل کشف جو لوگ ہوتے ہیں وہ احادیث کی صحت کے لئے محدثین کے اصول تنقید احادیث کے پابند نہیں ہوتے بلکہ وہ بعض اوقات ایک صحیح حدیث کو ضعیف ٹھہرا سکتے ہٰن یا ضعیف کو صحیح کیونکہوہ براہ راست اﷲ تعالیٰ یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اطلاع پاتے ہیں۔جب یہ بات ہے تو پھر مسیح موعود جو حکم ہو کر آئے گا کیا اس کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ احادیث کی صحت اس طریق پر کر سکے؟ کیا وہ خد اتعالیٰ سے فیض نہ پاسکے گا؟ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے محروم ہوگا؟ اگر ا سکو یہ مقدرت نہ ہوگی تو پھر بتائو کہ ایسا حکم کس کام کا اور مصرف کا ہوگا؟