بڑے ہوتے ہیں۔لیکن جب ان کا صدق آفتاب کی طرح کھل جاتا ہے اور ان کی ترقی کا دریا بہہ نکلتا ہے تو پھر ماننے والے عوام الناس کہلاتے ہیں۔ جب خدا تعالیٰ کا ہمیشہ سے ایک قانون سلسلہ نبوت کے متعلق چلا آتا ہے۔اور اس کے اپنے ماموروں کے ساتھ یہی سنت ہے تو میں اس سے الگ کیونکر ہو سکتا ہوں پس اگر ان لوگوں کے دل میں بخل اور ضد نہیں تو میری بات سنیں اور میرے پیچھے ہو لیں پھر دیکھیں کہ کیا خدا تعالیٰ ان کو تاریکی میں چھوڑتا ہے یا نور کی طرف لے جاتا ہے؟ میں یقین رکھتا ہوں کہ جو صبر اور صدق دل سے میرے پیچھے آتا ہے وہ ہلاک نہ کیا جاوے گا۔بلکہ وہ اسی زندگی س یحصہ لے گا جس کو کبھی فنا نہیں۔اس قدر لوگ جو میرے ساتھ ہیں اور جواب اس وقت موجود ہین کیا ان میں سے ایک بھی ہے جو یہ کہے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا ایک نہیں سینکڑوں نشان خدا تعالیٰ نے دکھائے ہیں مگر نشانات پر ایمان کا حصر کرنا یہ ٹھوکر کھانے کا موجب ہو جایا کرتا ہے جس کا دل صاف ہے اور خدا ترسی اس میں ہے اس کے سامنے دوبارہ آین کے متعلق حضرت عیسیٰ ؑ کا ہی فیصلہ پیش کرتا ہوں وہ مجھے سمجھاوے کہ یہودیوں کے سوال کے جواب میں (کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا آنا ضروری ہے) جو کچھ مسیح نے کہا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ یہودی تو اپنی کتاب پیش کرتے تھے کہ ملاکی نبی کے صحیفہ میں ایلیا کا آنا لکھا ہے مثیل ایلیا کا ذکر نہیں۔مسیح ؑ یہ کہتے ہیں کہ آنے والا یہی یوحنا ہے چاہو تو قبول کرو اب کسی منصف کے سامنے فیصلہ رکھو اوردیکھو کہ ڈگری کس کو دیتا ہے وہ یقینا یہودیوں کے حق میں فیصلہ دے گا مگر ایک مومن جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا کے فرستادے کس ٭آتے ہیں وہ یقین کرے گا کہ میسح نے جو کچھ کہا اور کیا وہی صحیح اور درست ہے اب اس وقت وہی معاملہ ہے یا کچھ اور؟ اگر خدا کا خوف ہو تو پھر بدن کانپ جاوے یہ کہنے کی جرات کرتے ہوئے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے افسوس اور حسرت کی جگہ ہے کہ ان لوگوں میں اتنا بھی ایمان نہیں جتنا کہ اس شخص کا تھا جو فرعون کی قوم میں سے تھا اور جس نے یہ کہا اگر یہ کاذب ہے تو خود ہلاک ہو جائے گا۔میری نسبت اگر تقویٰ سے کام لیا جاتا تو اتنا ہی کہہ دیتے اور دیکھتے کہ کیا خدا تعالیٰ میری تائیدیں اور نصرتیں کر رہا ہے یا میرے سلسلہ کو مٹا رہا ہے۔ قرآن کریم کے مقابلہ میں سُنت اور حدیث کا درجہ میری مخالفت میں ان لوگوں نے قرآن شریف کو بیھ چھوڑ دیا ہے۔میں قرآن شریف پیش کرتا ہوں اور یہ اس کے مقابلہ میں احادیث کو پیش کرتے ہیں مگر یادرکھنا چاہئے کہ احادیث اس درجہ پر نہین ہین جو قرآن شریھ کا درجہ ہے اور نہ ہم احادیث کو کلام اﷲ کا درجہ دے سکتے ہیں احادیث