قبل از وقت ابتلاء ضرور آتے ہیںتاکچوں اور پکوں میں امتیاز ہو اور مومنوں اور منافقوں میںبین فرق نمودار ہو اسی لیے خداتعالیٰ نے فرمایا ہے احسب الناس ان یترکو ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون (العنکبوت:۳) یہ لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر نجات پا جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا کوئی امتحا ن نہ ہو ۔ یہ کبھی نہیں ہوتا ۔ دنیا میں بھی امتحان اور آزمائش کا سلسلہ مو جو د ہے جب دنیاوی نظام میں یہ نظیر موجود ہے تو رو حا نی عالم میں یہ کیوں نہ ہو ۔بغیر امتحان اور آزمائش کے حقیقت نہیں کھلتی ۔ ۔ازمائش کے لفظ سے یہ بھی دھو کا نہ کھانا چاہئے اللہ تعالیٰ کوجو عالم الغیب اور یعلم اسروالخفی ہے امتحان کی ضرورت ہے اور بدوںامتحان یا آزمائش کے اس کو کچھ معلوم نہیںہوتا ایساخیال کرنا نہ صرف غلطی بلکہ کفر کی حد تک پہنچتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات کا انکار ہے امتحان یا آزمائش کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ تا حقائق مخفیہ کا اظہار ہو جاوے اور شخص زیر امتحان پر اس کی حقیقت ایمان منکشف ہو کر اسے معلوم ہو جاوے کہ وہ کہاں تک اللہ کے ساتھ صدق و اخلاص و وفا رکھتا ہے اور ایسا دوسرے لوگوں اسکی خوبیوں پراطلاع ملے ۔ پس یہ خیال باطل ہے۔اگر کوئی کہے کہ اﷲ تعالیٰ جو امتحان کرتا ہے تو اس سے پایا جاتا ہے کہ اس کو علم نہیں اس کو تو ذرہ ذرہ کا علم ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک آدمی کی ایمانی کیفیتوں کے اظہار کے لئے اس پر ابتلا آویں اور وہ امتحان کی چکی میں پیسا جاوے کسی نے کیا اچھا کہا ہے ہر بلا کیں قوم را حق دادہ اندر زیر آں گنج کرم بنہادہ اندر ابتلائوں اور امتحانوں کا آنا ضروری ہے بغیر اس کے کشف حقائق نہیں ہوتا یہودی قوم کے لئے یہ ابتلا جو مسیح کی آمد تھا بہت ہی بڑا تھا اور جب کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے ضرور ہے کہ وہ ابتلائوں کولے کر آوے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی توریت میں مثیلِ موسیٰ والی موجود ہ لیکن کیا کہنے والے نہیں کہتے کہ کیوں اﷲ تعالیٰ نے پورا نام لیکر نہ بتایا اور سارا پتہ نہ دے دیا کہ وہ عبداﷲ کے گھر میں آمنہ کے پیٹ سے پیدا ہو گا اور اسما عیلی سلسلہ سے ہو گا تیرے بھائیوں کا لفظ کیوں کہہ دیا؟ اصل بات یہ ہے کہ اگر ایسی ہی صراحت سے بتادیا جاتا تو پھر ایمان ایمان نہ رہتا دیکھو اگر ایک شخص پہلی رات کا چاند دیکھ کر بتادے تو وہ تیز نظر کہلا سکتا ہے لیکن اگر کوئی چودھویں کا چاند دیکھ کر کہہ دے کہ میں نے بھی چاند دیکھ لیا ہے تو کیا لوگ اس پر نہسیں گے نہیں؟ یہی حال خدا تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کی شناخت کے وقت ہوتا ہے جو لوگ قرآن قویہ سے شناخت کر لیتے اور ایمان لے آتے ہیں اور اول المومنین ٹھہرتے ہیں ان کے مدارج اور مراتب