اس اعتقاد کو دل میں جگہ دو گے تو نتیجہ وہی ہو گا ۔کہ اسلام ہاتھ سے جائے گا ۔مسیح کو یہودیوں نے اس وجہ سے جھوٹا قرار دے ا۔کیا ہمارے مخالف مسلمان بھی چہتے ہین کہ اس کو جھوٹا قرار دیں ؟ پھر ایک اور اعتراض اسی قصّہ کی بدولت پیدا ہو تا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مسیح مردوں کو زندہ کرتے تھے یا وہ قدرتیں اور طاقتیں ان میں موجود تھیں جو ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو پھر کیا وجہ ہوئی کہانہوں نے ایلیا کو زندہ کر لیا یا آسمان سے بے اختیار خود نہ اتارلیا۔
میر ے مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے میرے مخالفوں کوضرور ہے کے کہ وہ اس قضیہ میں کو صاف کر لیں جو مسیح کو پیش آیا اورجس کافیصلہ انہوں نے میرے حق میں کیا ہے ۔ بات یہ ہے کہ بہت سی باتیں پیشگوئیوں کے طور پر نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہنچتی ہیں ۔اور جب تک وہ اپنے وقت پرظاہر نہ ہوں ۔ان کی بابت کوئی یقینی رائے قائم کی نہیںجاسکتی ۔ لیکن جب ان کاظہور ہوتاہے اور حقیقت کھلتی ہے تو معلوم ہو جاتاہے کہ اس پیشگوئی کایہ مفہوم او رمنشاتھا ۔اور جو شخص اس کامصداق ہو یاجس کے حق میں ہو اس کوعلم دیا جاتاہے جیسے فقیہ اورفریسی برابر ایلیا کے دوبارہ آنے کاقصہ پڑھتے رہتے تھے اور وہ نہایت ہی شوق کے ساتھ اس کاانتظار کرتے رہے لیکن اس کی حقیقت اور اصلیت کا علم ان کو اس وقت عطا نہ ہواجب تک خود آنے والا مسیح ؑ جس کے آنے کاوہ نشان تھا ،نہ آگیا , پس یہ علم مسیح ؑ کو ملا اوراس نے آکر فیصلہ کیا کہ ایلیا کی آمد سے مراد یہ ہے ۔
اسی طرح پر حضرت یعقوب علیہ السّلام حضرت یوسف علیہ السّلام کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے آخر جاکر آپ کو خبر ملی تو کہا
انی لاجد ریح یوسف ( یوسف : ۵ ۹)
ورنہ اس سے پہلے آپ کا کیا حال ہوا کہ قرآن شریف میں فرمایاگیا ہے
وابیضت عینیہ ( یوسف : ۸۵)
تک نوبت پہنچی اسی کے متعلق کیا اچھا کہاہے ؎
کسے پر سید زاں گم کردہ فرزند
کہ اے روشن گہر پیر خرد مند
ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی
چرا در چاہ کنعاش نہ دیدی؟
ابتلا اور آزمائش کے غرض
یہ بیہودہ باتیں نہیں ہیں بلکہ جب سے نبوت کا سلسلہ جاری ہوا ہے یہی قانون چلا آیا ہے