کی تکذیب نہیں کی اور تکذیب کے اول حق دار تو حضرت مسیح ؑ اور ان کے متبعین ہوسکتے ہیں جبکہ یہ بات ہے کہ استعارات کوئی چیز نہیں اور ہر پیشگوئی لازماً اپنے ظاہری الفاظ ہی پر پوری ہوتی ہے تو پھر ان کو گویا مانناپڑے گا یہودیوں کی طرح کہ مسیح ابھی نہیں آئے گا اورجب مسیح کے آنے کا بھی ہے ہواتو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی انکارکرنا پڑا اوراس طرح پر اسلام ہاتھ س جاتا ہے اسی لیے میں بار بار اس امر پر زور دیتا ہوں کہ میری تکذیب سے اسلام کی تکذیب لازم آتی ہے
اس صورت میںعقل مند سوچ سکتا ہے کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کے قصہ کے رنگ میں مسیح کی آمد ثانی ہے اوران کا فیصلہ گویا چیف کورٹ کا فیصلہ ہے جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ نامراد رہتا ہے اگر حضرت عیسیٰ ؑ نے خودآنا تھا توصاف لکھ دیتے کے میں خود ہی آؤں گا۔ یہودی بھی تو اعتراض کرتے ہیںکہ اگر ایلیا کا مثیل آنا تھا توکیوں خدا نے یہ نہ کہا کہ ایلیا کا مثیل آئے گا ۔غرض جس قدر یہ مقدمہ ایلیا کا ہے اس پر اگر ایک دانشمند صفائی اور تقویٰ سے غور کرے تو صاف سمجھ آجاتا ہے کہ کسی کے دوبا رہ آنے سے کیا مراد ہوتی ہے اور وہ کس رنگ میں آیا کرتا ہے ۔دو شخص بحث کرتے ہیں ایک نظیر پیش کرتا ہے اور دوسرا کوئی نظیر پیش نہیں کرتا تو بتاؤ کس کا حق ہے کہ اس کی بات مان لی جاوے ؟یہی کہنا پڑے گا کہ ماننے کے قابل اسی کی بات ہے جو دلائل کے علاوہ اپنی بات کے ثبوت میں نظیر بھی پیش کرتا ہے اب ہم تو ایلیا کا فیصلہ شدہ مقدمہ جو خود مسیح نے اپنے ہاتھ سے کیا ہے بطور نظیر پیش کرتے ہیں یہ اگر اپنے دعویٰ میں سچّے ہیں تو دو چا ایسے شخصوں کے نام لے دیں جن کی آسمان سے اترنے کی دلیلیں مو جود ہیں سچ کے حق میں کوئی نہ کوئی نظیر ضرور ہوتی ہے اس مقدمہ میں تتقیح طلب امر یہی کہ جب کسی کے دوبارہ آنے کا وعدہ ہو تو کے ااس سے اس شخص کا پھر آنا مراد ہوتا ہے یا اس کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے اور اس کی آمد ثانی سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کوئی اس کا مثیل آئے گا اگر اس تتقیح طلب امر میں ان کا دعویٰ سچا ہے کہ وہ شخص خود ہی آتا ہے تو پھر حضرت عیسیٰ پر جو الزام عائد ہوتا ہے اسے دور کر کے دکھائیں ۔اول یہ ان کا فیصلہ فراست صحیحہ سے نہئن ہوا ۔اور دوسرے معاذاللہ وہ جھوٹے نبی ہیں کیونکہ ایلے اتو آسمان سے آیا ہی نہیں وہ کہاں سے آگئے ؟ اس صورت میں فیصلہ یہودیوں کے حق میں صادر ہوگااس کا جواب ہمارے مخالف ذرا ہم کو دے کر تو دکھائیں ۔لیکن یہ ساری مصیبت ان پر اس ایک امر سے آتی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم استعارہ نہیں مانتے اصل بات یہی ہے اور وہی فیصلہ حق ہے جو مسیح نے دیا ہے کہ ایلیا کے آنے سے مرا یہ تھی کہ اس کی خو اور طبیعت پر اس کا مثیل آئے گا اس کے خلاف ہر گز ثابت نہیںہو سکتا۔مشرق یا مغرب میں پھرو اور اس کی نطیر لاؤ کہ دو بارہ آنے والا خود ہی آیا کرتاہے ۔