نہ اترا تو وہ گھبرائے ۔ ۱؎ اور یہ ابتلا ان کو پیش آگیا کہ ایلیا کا آسمان سے آنا مسیح کے آنے سے پہلے ضروری ہے اب انصا ف شرط ہے ۔اگر یہ فیصلہ کسی جج کے سامنے پیش ہو تو وہ بھی یہودیوں کہ حق میں ڈگری سے گا کیونکہ یہ صاف طور پر لکھا گیا تھا کہ ایلیا آئے گا اوراس سے پہلے کوئی نظیر اس قسم کے بروز کی ان میں موجود نہ تھی جو مسیح نے یوحنا کو ایلیا بنایا ۔اب اگر چہ ہم ان کتابوںکی بابت تو یہی کہتے ہیں کہ لاتصدقو ا و لا تکذبو لیکن یہ بھی ساتھ ضروری بات ہے کہ قرآن شریف میں یہ آیا ہے ۔ فسئلو اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون ( النمل : ۴ ۴ ) علاوہ بریں اس قصہ ایلیا کی قرآن شریف نے کہیں تکذیب او رتردید نہیں کی اور عیسائی دونوقومیں بالاتفاق اس کو صحیح مانتی ہیں ۔ اگر یہ قصہ نہ ہوتا۔تو عیسائیوں کا حق تھا کہ وہ بول پڑتے اوراس کی تکذیب کرتے خصوصاً ایسی حالت میں کہ اگر اس قصہ کو غلط کہا جائے تو عیسائیوں کے لیے مشکلات سے نجات اور مخلصی ہے ۔ جواس کو صحیح مان کر ان کو پیش آتی ہیں لیکن جبکہ انہوں نے تکذیب نہیں کی اوراس کوصحیح تسلیم کر لیا ہے پھر کوئی وجہ نہیںہوسکتی کہ ہم بلاوجہ تکذیب پر آمادہ ہوں ۔حق یہی ہے کہ یہودیوں میں یہ خبر صحیح موجود تھی کہ مسیح آنے سے پہلے ایلیا آئے گا ۔ مسیح علیہ ا لسّلام کافیصلہ اور اسی لیے جب مسیح آگیا ت وہ مشکل میں پڑ ے اور انہوں نے مسیح سے ایلیا کے متعلق سوال کیا اور مسیح نے یوحنا کی صورت میں اس کوتسلیم کر لیا ۔ یہاںسے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگریہ پیشگوئی صحیح نہ ہوتی تو سب سے پہلے مسیح کا یہ حق تھا کہ وہ بجائے اس کہ یہ کہتے آنے والا ایلیایوحنا ہی ہے ، یوں جواب دیتے کہ کوئی ایلیا آنے والا نہیں ہے مسیح نے اگر اس کو صحیح تسلیم نہ کیاہوتا تو وہ یوحنا کی مشکل میں ایلیا کو نہ اتارتے ۔یہ چھوٹی اور معمولی سی بات نہیں ۔مسیح کا یہودیوں کے اس اعتراض کو مان کر اس کا جواب دینا بھی اس امر کی روشن دلیل ہ کہ وہ بجائے خود اس امر کوصحیح اوریقینی سمجھتے تھے ۔یہودیوں کایہ عذر بہر حال قابل پذیرائی تھا اورمسیح نے اس کو قبول کر کے یہی جواب دیا ہے کہ آنے والا ایلیا یوحنا ہی ہے چاہو تو قبول کر و ۔ اب اگر استعارات کوئی چیز نہیں اورخداتعالیٰ کی پیشگوئیوں میں یہ جزو اعظم نہیں ہوتے تو پھر جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح ؐ کی اس تاویل کو تسلیم نہیں کیا، یہ بھی انکا ر کریںکہ وہ فیصلہ صحیح نہیں تھا کیونکہ یہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ ایلیا والے قصہ کی مسلمان تکذیب تو کر نہیںسکتے کیونکہ قرآن شریف نے کہیں اس