جائے گا ؟ یا ظاہر پر اس سے مراد نہیںلی جاتی ،کچھ اور مطلب ہے ۔ یقینا اس کویہی کہنا پڑے گا ۔ کہ بیشک اس کے معنے نہیں ہیں کہ ہر اندھا اورنابینا قیامت کو بھی اندھا اور نابینا اٹھے گا بلکہ اس سے مراد معرفت اوربصیرت کی نابینائی ہے ۔
جب یہ ثابت ہوتا ہے کہ ا لفاظ میں استعارات بھی ہوتے ہیں اور خصوصاً پیشگوئیوں میںالفاظ ہیں ،ان کو بالکل ظاہر ہی حمل کر لینا کونسی دانشمندی ہے ؟یہ وہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیںظاہر پرستی سے کام لیتے ہیں ۔مگر یاد رکھیں کہ
ان الظن لایغنی من الحق شیئاً (النجم : ۲۹) اوربعض الظن اثم (الحجر ۱۳ )
پس اگر بدظنی سے کام لیتے ہیں اورظاہر معنوں ہی پر حمل کرتے ہیں تو پھر نابینوںکو تونجات سے جواب ہوگا ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ خد اتعالیٰ کی کتابوں کی زبان محض ناواقف ہیں اگر واقف ہوتے تو سمجھتے کہ پیشگوئیوں میں کس قدراستعارات سے کام لیا جاتا ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں تو اس سے مراد صحابہ ؓ کی شہادت تھی اور یہ کوئی خاص بات نہیں عام طور پر قانون الٰہی رؤیا اور پیشگوئیوں کے متعلق اس قسم کا ہے ۔ دیکھو حضرت یوسف ؑ کی رؤیا جو قرآن شریف میں ہے کیا اس سے سورج اور چاند اورستارے مراد تھے ؟ یا عزیز مصر کی رؤیا جس گائیاں دکھائی گئی تھیں اس سے فی الواقعہ گائیں مراد تھیں یاکچھ اور ؟ اس قسم کی ایک دو نہیں ہزاروں ہزار شہادتیں ملتی ہیں۔ مگر تعجب کی بات ہے کہ نزول المسیح کہ معاملہ میں یہ لوگ ان کو بھول جاتے ہیں اور ظاہر الفاظ پر زور دینے لگتے ہیں ۔ ان معاملات میں اختلاف کے جڑ دو ہی باتیں ہواکرتی ہیں کہ مجاز اور اسعارہ کو چھوڑ کر اس کو حمل کر لیا جائے او رجہاں ظاہر مراد ہے وہاں استعارہ قرار دیا جائے ۔ اگر پیشگوئیوں میں مجاز اور استعارہ نہیں ہے تو پھر کسی نبی کی نبوت کا ثبوت بہت مشکل ہوجاوے گا۔
عہد نامہ قدیم و جدید استعارات کااستعمال اور یہود کا ابتلاء
یہودی کو یہی مشکل اور آفت تو پیش آئی کیونکہ حضرت مسیح کے لیے لکھا تھا کہ اس کے آنے سے پہلے ایلیا آئے گا ۔چنانچہ ملا کی کتاب میں یہ پیشگوئی بڑی صراحت سے درج ہے ۔یہودی اس پیشگوئی کے موافق منتظر تھے ۔کہ ایلیا آسمان سے آوے لیکن جب مسیح آگیا او رایلیا آسمان سے